بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دو روزہ کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائیاں صوبے میں امن و امان کو خراب کرنے کی کوششوں کے خلاف کی گئیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فتنہ الہندوستان کے اسپانسرڈ دہشت گردوں نے 31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملے کیے۔ ان حملوں کا مقصد صوبے میں بدامنی پھیلانا اور شہریوں کو نشانہ بنانا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، گوادر اور پسنی میں کارروائیاں کیں، جن میں خواتین، بچوں اور مزدوروں سمیت 18 شہری شہید ہوئے۔
سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے تمام حملے ناکام بنائے اور 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ اس طرح گزشتہ دو دنوں میں بلوچستان میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران 15 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد حملے پاکستان سے باہر بیٹھے سرغنوں کی ہدایت پر کیے گئے تھے، جبکہ منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا اور واضح کر دیا کہ ایسے حملے بلوچستان کے امن کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، شہداء کے خاندانوں کے حوصلے بلند ہیں اور حکومت شہداء کے لواحقین سے کیے گئے وعدے کے مطابق خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لے گی۔






