پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے مقدمات سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ عدالتوں میں جھوٹے گواہ پیش کیے جا رہے ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ آج کل وہ مختلف عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز بیرسٹر سلمان صفدر کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے ملاقات کی تصدیق کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ آج سپریم کورٹ جائیں گے جہاں رپورٹ کے حوالے سے صورتحال واضح ہوگی۔ علیمہ خان کے مطابق عمران خان کو گزشتہ چھ ماہ سے آنکھ کا مسئلہ درپیش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپتال لے جا کر آنکھ کا علاج کروایا گیا، تاہم انہیں معلوم نہیں کہ علاج کس نے اور کیسے کیا۔
علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو عوام سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک اور عوام سے محبت کرتے ہیں اور ان کے بقول وہی ملک کو متحد کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو کامیاب ہڑتال ہوئی جس سے عوامی ردعمل واضح ہو گیا۔ ان کے مطابق عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مختلف خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ لاہور میں بسنت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کے اور ان کی بہن کے بچوں نے قیدی نمبر 804 کے نام سے پتنگیں اڑائیں جبکہ وہ خود گھروں میں رہ کر احتجاج میں شریک ہوئے۔
علیمہ خان نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ انصاف کیا جائے اور کہا کہ اب معاملہ عدالتوں پر منحصر ہے۔ انہوں نے ججوں سے اپیل کی کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب وکیل فیصل ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کا انحصار ایک یو ایس بی پر ہے جس میں 65 سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔ ان کے مطابق علیمہ خان کے خلاف پیش کی گئی ویڈیوز متنازع ہیں اور امید ہے عدالت انہیں مسترد کر دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ویڈیوز میں واضح نہیں کہ کون کیا کہہ رہا ہے اور یہ کس ذریعے سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان کے بقول استغاثہ کی مرکزی شہادت قابل قبول نہیں جبکہ علیمہ خان کے خلاف مقدمہ سیاسی انتقامی کارروائی ہے اور پیش کیا گیا مواد غیر متعلقہ ہو چکا ہے۔






