ایک97 سالہ ڈاکٹر نے اپنی طویل اور صحت مند زندگی کے تجربات شیئر کرتے ہوئے ایسے بنیادی اصول بتائے ہیں، جن پر عمل کر کے ہر عمر کے افراد اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بڑھاپے میں بھی بیماریوں سے بچنا ممکن ہے، بشرطیکہ روزمرہ عادات میں سادہ مگر مؤثر تبدیلیاں لائی جائیں۔
غیر منافع بخش تنظیم سینئر کیئر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جسم کو متحرک رکھنا، دماغ کو مسلسل استعمال کرنا اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا لمبی عمر کے اہم عوامل ہیں۔ یہ اصول نوجوانوں اور بزرگوں دونوں کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق مناسب مقدار میں پانی پینا نہایت ضروری ہے۔ پانی کی کمی گردوں کے مسائل کو جنم دے سکتی ہے، جبکہ مناسب مقدار جسم سے فاضل مادوں کے اخراج اور خون کی روانی کو بہتر بناتی ہے۔ تحقیق سے بھی معلوم ہوا ہے کہ درست مقدار میں پانی پینا دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے خطرات کم کرتا ہے۔
انہوں نے جسمانی سرگرمی کو لازمی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی عمر کے باوجود روزانہ ہلکی ورزش اور وزن اٹھانے کی عادت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے پٹھے مضبوط رہتے ہیں اور بڑھتی عمر میں کمزوری اور ہڈیوں کے مسائل کم ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق باقاعدہ ورزش نہ صرف نیند کو بہتر بناتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ بھی کم کرتی ہے۔
دماغی صحت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ ذہن کو غیر فعال نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ان کے مطابق مسلسل سیکھنے اور ذہنی مشقوں سے یادداشت بہتر رہتی ہے اور بڑھاپے میں ذہنی کمزوری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ کتابیں پڑھنا، پہیلیاں حل کرنا یا کوئی نیا ہنر سیکھنا اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے روزمرہ زندگی میں حرکت کو بھی بے حد اہم قرار دیا اور کہا کہ مسلسل غیر متحرک رہنا جسم کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص طویل عرصے تک غیر فعال رہے تو اس کے پٹھوں میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے، اس لیے چہل قدمی، سائیکل چلانا یا دیگر ہلکی سرگرمیوں کو معمول کا حصہ بنانا چاہیے۔
ڈاکٹر کے مطابق اگر انسان ان سادہ اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف صحت بہتر رہتی ہے بلکہ عمر میں اضافہ بھی ممکن ہوتا ہے، اور بڑھاپا زیادہ متحرک اور خوشگوار انداز میں گزارا جا سکتا ہے۔






