ناسا کا بڑا کارنامہ: خلا سے سمندری تہہ کا نیا نقشہ تیار

0
240

اکثر کہا جاتا ہے کہ انسان چاند کے بارے میں سمندروں کی گہرائیوں سے زیادہ جانتا ہے، تاہم اب اس صورتحال میں تبدیلی کی امید پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ ناسا نے سمندری تہہ کا ایک نیا نقشہ جاری کر دیا ہے، جو خلا سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

یہ نقشہ جدید سیٹلائٹ “سرفیس واٹر اینڈ اوشین ٹوپوگرافی” (SWOT) کی مدد سے بنایا گیا، جو ناسا اور سی این ای ایس کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس سیٹلائٹ کو دسمبر 2022 میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔

یہ جدید نظام زمین کے گرد گردش کرتے ہوئے ہر 21 دن میں تقریباً 90 فیصد سیارے کو اسکین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف سمندروں بلکہ جھیلوں اور دریاؤں کی سطح کی بلندی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جس سے پانی کے عالمی نظام کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔

ناسا کے مطابق اس مشن کا مقصد رواں دہائی کے اختتام تک دنیا بھر کی سمندری تہہ کا جامع اور تفصیلی نقشہ تیار کرنا ہے، تاکہ ان علاقوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں جو اب تک ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے نہ صرف سائنسی تحقیق کو فروغ ملے گا بلکہ عملی شعبوں میں بھی نمایاں فائدہ ہوگا۔ ان میں سمندری راستوں کی بہتری، نیوی گیشن، زیرِ سمندر کمیونیکیشن کیبلز کی تنصیب، معدنی وسائل کی تلاش اور ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی شامل ہیں۔

یوں خلا سے حاصل ہونے والا یہ جدید ڈیٹا سمندروں کے پوشیدہ رازوں کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں سائنسی اور معاشی ترقی کی نئی راہیں بھی ہموار کر سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا