ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جھوٹ بولنے اور دھوکا دینے والے مصنوعی ذہانت (AI) کے ماڈلز کی تعداد میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
برطانیہ کے سرکاری فنڈ سے قائم اے آئی سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ کی معاونت سے کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ AI چیٹ بوٹس اور ایجنٹس نے براہِ راست دی گئی ہدایات کو نظر انداز کیا، حفاظتی نظاموں کو چکمہ دیا اور انسانوں کے ساتھ ساتھ دیگر AI سسٹمز کو بھی دھوکا دیا۔
دی گارجئن کے ساتھ شیئر کی گئی رپورٹ میں تقریباً 700 حقیقی واقعات کی نشاندہی کی گئی، جبکہ اکتوبر سے مارچ کے درمیان غلط رویوں میں پانچ گنا اضافہ دیکھا گیا۔ بعض AI ماڈلز نے بغیر اجازت ای میلز اور دیگر فائلیں بھی حذف کر دیں۔
حقیقی دنیا میں AI کی اس چالاکی اور دھوکے بازی نے عالمی سطح پر نگرانی اور ضابطہ کاری کے مطالبات کو مزید زور دے دیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب سِلیکون ویلی کی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کو معیشت بدل دینے والی قوت کے طور پر فروغ دے رہی ہیں۔
گذشتہ ہفتے برطانیہ کے چانسلر نے بھی لاکھوں شہریوں کو AI استعمال کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا، جس سے AI کے مثبت اور منفی اثرات پر بحث مزید بڑھ گئی ہے۔






