بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کی تیاری آخری مراحل میں داخل، تہلکہ خیز رپورٹ

0
506

بین الاقوامی تنظیم جینوسائیڈ واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت نسل کشی کے طے شدہ 10 مراحل میں سے 7 مراحل عبور کر چکا ہے۔

جینوسائیڈ واچ، جو دنیا بھر میں نسل کشی کی نگرانی اور روک تھام کے لیے کام کرتی ہے، اپنے 10 مراحل پر مبنی فریم ورک کے ذریعے مختلف معاشروں میں نسل کشی کے خطرات کی نشاندہی کرتی ہے۔

فروری 2026 کی رپورٹ میں خاص طور پر بھارت میں مسلمانوں کی صورتحال پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد نفرت انگیز تقاریر اور مخالف مسلم سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی معاشرے میں امتیازی قوانین، تعصبانہ بیانات اور اقلیتوں کے حقوق میں کمی ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے۔ نفرت انگیز تقاریر، قانونی اخراج اور تشدد میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جو بڑے پیمانے پر تشدد کی تیاری کی نشاندہی کرتے ہیں۔

جینوسائیڈ واچ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کی آبادی 14.2 فیصد ہونے کے باوجود ان کی نمائندگی سول سروس میں صرف 3 فیصد اور پولیس میں 4 فیصد ہے، جبکہ لاکھوں مسلمان قانونی تحفظ اور فیصلہ سازی کے عمل سے باہر ہیں۔

رپورٹ میں آسام کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں 70 لاکھ سے زائد افراد کو شہریت سے محرومی کا خطرہ لاحق ہے اور حراستی مراکز کے قیام کا عمل جاری ہے، جس سے خصوصاً بنگالی مسلمانوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مزید برآں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوتوا نظریے سے وابستہ عناصر کی جانب سے اسلحہ اٹھانے اور تشدد کو جواز دینے کے بیانیے کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی نفرت انگیز مواد پھیلایا جا رہا ہے۔

جینوسائیڈ واچ کے مطابق بعض واقعات میں مسلم متاثرین کو ہی گرفتار کیا گیا، جبکہ بھارتی جیلوں میں مسلمانوں کی شرح 19 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں نفرت انگیز تقاریر، تربیتی کیمپوں اور تشدد کو ہوا دینے والی سرگرمیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا