نئی گندم خریداری پالیسی وسیع حکومتی وژن کے مطابق تیار کی گئی ہے، شرجیل میمن

0
393

سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی نئی گندم خریداری پالیسی صوبے کے وسیع حکومتی وژن کے مطابق تیار کی گئی ہے۔

وزیر نے بتایا کہ نئی پالیسی کا بنیادی مقصد کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ ہے، جبکہ ایک ملین میٹرک ٹن گندم کی خریداری کا فیصلہ خوراک کی حفاظت اور آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یکم اپریل سے صوبے کے 109 مراکز پر گندم کی خریداری شروع ہوگی۔ فی من گندم کی امدادی قیمت 3,500 روپے مقرر کی گئی ہے، اور پہلی بار خریداری صرف رجسٹرڈ ہاری کارڈ ہولڈرز سے کی جائے گی تاکہ حقیقی کاشتکاروں تک زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔ تقریباً 330,000 کاشتکار اس اسکیم سے براہِ راست مستفید ہوں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال حکومت باردانہ فراہم نہیں کرے گی، بلکہ کاشتکار اپنے بیگ خود لائیں گے اور ہر بیگ کے لیے 60 روپے کی ادائیگی براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں سندھ بینک کے ذریعے کی جائے گی۔ نئے طریقہ کار سے نہ صرف خریداری کا عمل آسان ہوگا بلکہ یہ زیادہ شفاف، مؤثر اور ممکنہ جعلسازی سے محفوظ بھی رہے گا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت کے پاس 200,000 ٹن گندم اسٹاک میں موجود ہے، جسے عوامی ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔ سندھ میں سالانہ تقریباً 4.3 ملین ٹن گندم پیدا ہوتی ہے، اور موجودہ پالیسی چھوٹے کاشتکاروں کی براہِ راست مالی معاونت کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہاری کارڈ اسکیم کے تحت کاشتکار ہی ڈی اے پی اور یوریا کھاد پر سبسڈی کے ذریعے مستفید ہوئے ہیں، اور نئی پالیسی کا مقصد کاشتکاروں کی معاونت، خوراک کی حفاظت اور عوام کو کم قیمت آٹا فراہم کرنا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا