پشاور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ہوٹل کی 30 کنال زمین کی الاٹمنٹ منسوخی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔
حیات آباد میں 5 اسٹار ہوٹل کی الاٹمنٹ منسوخی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ خان نے کی۔
درخواست گزار کے وکیل عمران سکندری نے مؤقف اپنایا کہ حیات آباد میں زیرِ تعمیر 5 اسٹار ہوٹل صوبے کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کا گرے اسٹرکچر مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 19 جون 2025 کو پی ڈی اے نے 30 کنال زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کی، جو کہ قانونی طریقہ کار کے منافی ہے اور جنرل کلاز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کی خلاف ورزی ہے۔
سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام آئین کے مطابق ہے اور وزیراعلیٰ، بطور چیئرمین پی ڈی اے، ایسے فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید بتایا کہ حکومت اور پی ڈی اے پہلے ہی تعمیراتی مدت میں 31 دسمبر 2026 تک توسیع دینے پر متفق ہو چکے تھے، اس کے باوجود الاٹمنٹ منسوخ کرنا غیر قانونی اقدام ہے۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے پی ڈی اے کا 19 جون 2025 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔






