۔28ویں آئینی ترمیم سے متعلق افواج پاکستان کی کوئی شق زیر غور نہیں: رانا ثناء اللہ

0
892

وفاقی وزیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم میں افواج پاکستان سے متعلق کوئی شق شامل نہیں ہے اور زیر غور معاملات بنیادی نوعیت کے ہوں گے۔

رانا ثناء اللہ نے جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 27 آئینی ترامیم ہو چکی ہیں، اس لیے آئندہ کوئی بھی ترمیم ہوگی تو وہ 28ویں آئینی ترمیم ہی کہلائے گی۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی، آبادی، پانی کی ترسیل اور دیگر اہم قومی معاملات مختلف زاویوں سے زیر بحث رہتے ہیں، تاہم ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہونے کی صورت میں بعض چیزوں پر ترمیم کے بغیر بھی عملدرآمد ممکن نہیں ہوگا۔

رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ آئینی عہدوں اور نظام حکومت سے متعلق کچھ حلقے صدارتی نظام کو بہتر سمجھتے ہیں، لیکن اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام ہی پاکستان کے لیے موزوں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ووٹر کی عمر بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ان کے مطابق جب الیکشن لڑنے کے لیے کم از کم عمر 25 سال مقرر ہے تو ووٹ ڈالنا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے، اس لیے اس پہلو پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے درست کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بغیر کوئی آئینی ترمیم ممکن نہیں، اور جب بھی کسی معاملے پر اتفاق رائے ہوگا تو وہی 28ویں ترمیم کی بنیاد بنے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا