آبناے ہورمز اور ایرانی پاسبانی بھتہ

0
973

سہیل بٹ

سب سے پہلے تو آبناے اور مصنوعی نہر کے فرق کو سمجھ لیجیے۔ آبناے سے مراد ایک تنگ آبی راستہ ہوتا ہے جو دو سمندروں کو آپس میں ملاتا ہے جبکہ مصنوعی نہر سے مراد ایک ایسی آبی گزر گاہ ہے جو کہ انسانوں کی کھودی ہوئی اور تعمیر کردہ ہوتی ہے اور اس کے کھودنے کا مقصد بھی دو سمندروں آپس میں ملانا ہوتا ہے۔اس وقت دنیا میں بیسیوں کی تعداد میں آبنائیں موجود ہیں۔ ان میں سے سب سے نمایاں ترین آبناے ہورموز، آبناے باب المندب، آبناے مالاکا اور آبناے جبرالٹر ہیں۔ دنیا میں انسانوں کی کھودی ہوئی دو بڑی نہریں ہیں جو مختلف سمندروں کو آپس میں ملاتی ہوئی آبی گزرگاہوں کا کردار ادا کررہی ہیں۔

ان میں سے ایک تو پاناما کینال ہے جو وسطی امریکہ میں واقع ہے اور بحیرہ کیریبین کو بحر الکاہل سے جوڑتی ہے جبکہ دوسری نہر سویز ہے جسکا محل وقوع مصر کا علاقہ برزخ ہے اور یہ بحیرہ روم کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے۔بین الاقوامی قانون کے مطابق آبناے کو ایک قدرتی آبی گزرگاہ سمجھا جاتا ہے جسے کسی بھی ملک کی جانب سے نہ تو بند کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسپر ٹول ٹیکس عاید کیا جاسکتا ہے۔انسانوں کی کھودی ہوئی نہر چونکہ کسی خاص ملک کی ملکیت ہوتی ہے اور اسے آپریشنل رکھنے کیلیے اس ملک کو سالانہ خاصی بڑی رقم صرف کرنا پڑتی ہے اس لیے بین الاقوامی قانون متعلقہ ملک کو نہر سے گزرے والی ٹریفک پر ٹول ٹیکس عاید کرنے کی اجازت دیتا ہے۔آبناے باسفورس ایک ایسی قدرتی آبی گزر گاہ ہے جو ترکی کے شہر استنبول کے عین وسط سے گزرتی ہے۔

اور دنیا کے دو سمندروں بحیرہ اسود اور بحیرہ مرمر کو آپس میں جوڑتی ہے۔ آبناے باسفورس سے گزرنے والی ٹریفک سے ترکی چارجز وصول کرتا ہے۔جہازوں سے وصول کیے جانے والے یہ چارجز ٹول ٹیکس نہیں ہیں بلکہ وہ سروس چارجز ہیں جو ترکی وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو مختلف خدمات مہیا کرنے کے عوض وصول کرتا ہے جیسے جہازوں کو راستہ دکھانا، انہیں تنگ اور مشکل راستوں سے گزرنے میں مدد دینے کیلیے پایلٹ سروس مہیا کرنا، جہاز کی مناسب حفاظت وغیرہ کا بندوبست کرنا، انہیں ویسٹ ڈسپوزل سروس مہیا کرنا وغیرہ وغیرہ۔یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ترکی آبناے باسفورس سے گزرنے والے جہازوں سے ان خدمات کے مہیا کرنے کے عوض معقول سروس چارجز تو وصول کرسکتا ہے لیکن ان پر ٹول ٹیکس عاید نہیں کرسکتا کیونکہ بین الاقوامی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔

اب آتے ہیں آبناے ہورمز اور ایران کی ملائی رجیم کی جانب کہ جنکی طرف سے پہلے تو آبناے سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عاید کرنے کی خواہش کی باتیں سامنے آتی رہیں لیکن ان پاسبانوں نے جب یہ دیکھا کہ بین الاقوامی قانون اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا تو اب انہوں نے یہاں سے گزرنے والی ٹریفک پر زبردستی سروس چارجز مسلط کرنے کے شوشے چھوڑنے شروع کردیے ہیں۔آبناے ہورمز کی ساری تاریخ ہمارے سامنے ہے۔

یہاں سے گزرنے والی ٹریفک پر نہ تو ہم نے کبھی بحری قزاقوں کے حملوں کا سنا کہ جنکے خلاف انہیں یہاں سے گزرتے ہوے کسی تحفظ کی ضرورت محسوس ہو اور نہ ہی جہازوں کو راستہ بھولتے یا چٹانوں سے ٹکراتے دیکھا یا سنا کہ انہیں نیویگیشن میں ہی کسی قسم کی رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہو تو پھر ایران کے پاسبانوں کی جانب سے آبناے ہومز سے گزرنے والی ٹریفک پر سروس چارجز عاید کرنے کی بے تُکی ہوائی اڑانے کا مطلب؟آپ کان کو ادھر سے پکڑ لو یا اُدھر سے بات تو ایک ہی ہے کہ آپ اس علاقہ پر اپنی دھونس جمانے رکھنے پر تلے ہوے ہیں۔ ایک بین الاقوامی آبی راستہ کو یرغمال بناے رکھ کر وہاں سے گزرنے والی عالمی ٹریفک سے بھتہ وصول کرنے اور اسپر جگا ٹیکس لگانے کی انتہائی غیرمعقول دھمکیاں جاری کررہے ہیں۔اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں ۔

کہ دنیا میں عالمی طاقتوں کے مابین بڑی بڑی جنگیں عالمی آبی گزرگاہوں کو کھلارکھنے اور انہیں کسی ایک طاقت کے قبضہ میں جانے سے روکنے کیلیے ہی لڑی گئی ہیں اور پھر یہ تو آبناے ہورمز ہے جہاں سے عالمی توانائی کے بیس فی صد سے زاید کی ترسیل ہوتی ہے۔ایران کے ان پاسبانوں کے متوقع اس انتہائی اقدام سے نظریں پھیر لیجائیں تو کل کو جبوٹی، ایریٹریا اور یمن بھی آبناے باب المندب کو بند کرکے بیٹھ جائیں گے کہ پہلے ہم کو بھتہ دو پھر ہم یہاں سے جہاز گزرنے دیں گے۔ آبناے جبرالٹر کو سپین اور ماروکو بند کردیں گے جبکہ مالاکہ جیسی اہم ترین آبناے پر انڈونیشیا، ملایشیا اور سینگا پور اپنے اپنے گیٹ لگادیں گے کہ پہلے ہمیں بھتہ دو پھر ہم کسی کو یہاں سے آگے گزرنے دیں گے۔خدا ایران کے عوام کا حامی و ناصر ہو۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا