ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کی ذمہ داری صرف ایران پر عائد ہوتی ہے، جبکہ کسی بھی دوسرے فریق کی مداخلت سے خلیج کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق عراقی ہم منصب سے ملاقات کے دوران عباس عراقچی نے کہا کہ حالیہ جنگ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے، اس لیے خطے کے تمام ممالک کو امن اور استحکام کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران خلیجی سلامتی کے حوالے سے عراق سمیت عرب خلیجی ممالک کے ساتھ مذاکراتی فریم ورک کا خیرمقدم کرتا ہے اور علاقائی تعاون کو مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور حملوں کا خاتمہ امریکا کے ساتھ طے پانے والے عبوری معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔
دوسری جانب عراقی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی ہم منصب سے ملاقات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عراق خلیج میں جنگ کے دائرہ کار میں اضافے کا حامی نہیں اور ایران پر حملوں کی بھی مخالفت کرتا ہے۔






