لاہور: میو اسپتال میں بدعنوانی، اسٹنٹس مریضوں میں استعمال کرنے کے بجائے چوری کا انکشاف

0
555

لاہور: میو اسپتال میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دل کے مریضوں کے لیے مختص کروڑوں روپے مالیت کے کارڈیک اسٹنٹس اور بیلونز کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق میو اسپتال کی کیتھ لیب میں 2 کروڑ 23 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے 232 کارڈیک اسٹنٹس اور 1,059 کارڈیک بیلونز کا ریکارڈ مریضوں کے علاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بعض پرانے مریضوں کے رجسٹریشن نمبرز اور اسٹکرز استعمال کرکے ریکارڈ ایڈجسٹ کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مریضوں کی فائلوں، ایم آر نمبرز اور علاج کے ریکارڈ سے استعمال شدہ طبی آلات کی تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ کیتھ لیب کے اسٹور ریکارڈ اور ڈاکٹروں کی پروسیجر رپورٹس میں بھی واضح تضادات پائے گئے ہیں۔

آڈٹ حکام نے ممکنہ خردبرد، فراڈ اور غیر مجاز استعمال کی تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور قومی خزانے کو ہونے والے ممکنہ نقصان کی وصولی کی سفارش کی ہے۔ دوسری جانب میو اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شعبہ امراضِ قلب کے سربراہ کی قیادت میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور رپورٹ مکمل ہونے پر آڈٹ حکام کو آگاہ کیا جائے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا