اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ غلط معلومات کا مقابلہ کرنے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
وزارت منصوبہ بندی و ترقی میں وفاقی وزیر احسن اقبال سے ہارورڈ بزنس اسکول کے ایم بی اے طلبہ کے وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی ترقی، ٹیکنالوجی اور مستقبل کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر احسن اقبال نے طلبہ کو حکومت کے منصوبے ’اڑان پاکستان‘ کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی تبدیلی کا جامع لائحہ عمل ہے۔ پاکستان نے 2035 تک اپنی معیشت کو ایک کھرب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اپنی پیداواری صلاحیت اس سطح تک لے جانا ہوگی جہاں وہ عالمی منڈی میں ایسی مصنوعات اور خدمات مسابقتی بنیادوں پر پیش کرسکے جو اس وقت ملک میں پیدا نہیں کی جا رہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا محض صارف بننے کے بجائے ان کا تخلیق کار بننا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، جدید صنعت، زراعت اور خلائی علوم سمیت مختلف شعبوں میں تکنیکی اور تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
سی پیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں پر توجہ مرکوز رہی، جبکہ اگلے مرحلے میں صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، زراعت، برآمدات اور کاروباری روابط کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔
احسن اقبال نے ہارورڈ بزنس اسکول کے طلبہ کو پاکستان واپس آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں صرف سیاح یا مہمان بن کر نہ آئیں بلکہ سرمایہ کار، کاروباری شخصیت اور پاکستان کی معاشی تبدیلی کے شراکت دار کے طور پر اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کا مقابلہ کریں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔





