اتحاد حکومت، یا نیا انتخاب! اسرائیل میں آگے کیا ہوگا

0
60

آسمان بھٹہ

مصنف اوٹاوا یونیورسٹی کینیڈا میں قانون کے طالب علم ہیں

اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات نے ایک بار پھر ملک کو سیاسی تعطل کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ووٹوں کی گنتی تقریباً مکمل ہونے کے باوجود کسی ایک جماعت یا انتخابی اتحاد کو واضح اکثریت نہیں ملی۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی لیکوڈ جماعت سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، لیکن ان کے دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کے لیے حکومت بنانے کی مطلوبہ تعداد پوری نہیں ہوئی۔ دوسری طرف سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں بھی اپنے بل پر اکثریت حاصل نہیں کر سکیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اسرائیل میں کوئی نیا اتحاد بنے گا، یا ملک کو ایک بار پھر انتخابی مہم اور نئے انتخابات کی طرف جانا پڑے گا؟ ابتدائی اندازوں میں نیتن یاہو کے اتحادیوں کو 53، آئزنکوٹ کے ساتھ منسلک اپوزیشن جماعتوں کو 48، جبکہ عرب قیادت والی جماعتوں کو 19 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔ جس سےحتمی نتائج اور حکومت سازی کی تصویر بدل سکتی ہے۔اسرائیل کی پارلیمان، کنیسٹ، 120 ارکان پر مشتمل ہے۔ حکومت بنانے کے لیے عموماً کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اسرائیلی انتخابی نظام میں ووٹر براہِ راست وزیراعظم کا انتخاب نہیں کرتے بلکہ جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ انتخاب کے بعد جماعتیں مذاکرات کے ذریعے حکومت کے لیے اکثریتی اتحاد بناتی ہیں۔ اسی لیے کسی جماعت کا سب سے زیادہ نشستیں لینا ضروری نہیں کہ اس کا رہنما وزیراعظم بھی بن جائے۔ صدر اسحاق ہرزوگ مختلف جماعتوں سے مشاورت کے بعد کسی رکنِ کنیسٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دے سکتے ہیں۔

یورپی پارلیمان کی تحقیقی سروس کے مطابق نامزد رکن کو حکومت تشکیل دے کر کنیسٹ کی منظوری حاصل کرنے کے لیے 45 دن تک کا وقت مل سکتا ہے۔ انتخابی نتائج نیتن یاہو کے لیے دھچکا ضرور ہیں، مگر انہیں مکمل شکست کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ان کی لیکوڈ جماعت اب بھی سب سے بڑی جماعت دکھائی دیتی ہے اور امکان ہے کہ صدر انہیں حکومت بنانے کی کوشش کا موقع دیں۔ مگر اصل مشکل اپنے اتحادیوں کو ساتھ رکھنے اور اضافی حمایت حاصل کرنے کی ہے۔ دائیں بازو کے اتحادیوں میں ایتامار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ جیسے رہنما شامل ہیں، جن کی سیاسی ترجیحات اور سخت مؤقف کسی بھی نئے سمجھوتے کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ نیتن یاہو کی مخالفین سے متعلق پوزیشن بھی ان کے لیے رکاوٹ ہے: انہوں نے عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ یوں ان کا راستہ اُن ہی سیاسی گروہوں تک محدود رہتا ہے جو انتخاب کے بعد اپنی شرائط پر زیادہ زور دے سکتے ہیں۔نیتن یاہو کے مخالفین کے پاس نشستوں کا ایک بڑا مجموعہ موجود ہے، مگر وہ ایک متحد سیاسی جماعت نہیں ہیں۔ آئزنکوٹ کے گرد جمع ہونے والے اتحاد میں دائیں، وسطی اور بائیں بازو کے مختلف رجحانات رکھنے والے رہنما شامل ہیں۔

ان جماعتوں کا نیتن یاہو کی حکومت ختم کرنے کا مشترکہ مقصد ہے، لیکن اس کے بعد ملک کیسے چلایا جائے، اس پر اتفاق قائم رکھنا ایک الگ چیلنج ہوگا۔ وزارتوں کی تقسیم، وزیراعظم کون ہوگا، فوجی بھرتی سے متعلق قانون، عدلیہ کی آزادی اور فلسطینیوں کے بارے میں پالیسی جیسے سوالات مذاکرات میں اہم ہوں گے۔ اگر اتحاد صرف نیتن یاہو مخالف جذبات پر قائم ہوا تو ممکن ہے کہ حکومت بننے کے بعد یہی اختلافات اس کی بنیاد ہلا دیں۔اس انتخاب میں عرب جماعتوں کی نشستیں خاص اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ ابتدائی نتائج کے مطابق عرب قیادت والی جماعتوں کو 19 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جن میں جوائنٹ لسٹ کو 12 اور رَعَم کو سات نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس تعداد کے باعث اپوزیشن کے لیے اکثریت تک پہنچنے کا ایک راستہ عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون یا ان کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ لیکن یہ سیاسی طور پر حساس فیصلہ ہوگا۔ اسرائیلی عرب شہری ملک کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں، مگر قومی سیاست میں ان کی جماعتوں کو حکومت سازی میں شریک کرنے پر طویل عرصے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔ نیتن یاہو نے اس تعاون کی مخالفت کی ہے، جبکہ اپوزیشن کے کچھ رہنما عرب جماعتوں کے ساتھ شراکت کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ دی گارڈین کی انتخابی رپورٹ کے مطابق بھی عرب جماعتوں کی مضبوط کارکردگی نے حکومت سازی کے اگلے مرحلے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

اس مرحلے پر عرب جماعتوں کا کردار صرف نشستوں کے حساب کا معاملہ نہیں، بلکہ اسرائیلی سیاست میں شمولیت اور نمائندگی سے جڑا ہے۔ کیا اپوزیشن ان جماعتوں کو باقاعدہ حکومت میں شامل کرے گی؟ یا وہ ان کی حمایت کو پارلیمان سے باہر رہتے ہوئے قبول کرے گی؟ یہ دونوں مختلف راستے ہیں اور دونوں کے اپنے سیاسی اخراجات ہیں۔ حکومت میں شمولیت سے عرب جماعتوں کو بجٹ، عوامی خدمات، مقامی حکومتوں اور شہریوں کے تحفظ کے معاملات پر براہِ راست اثرانداز ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن کے بعض ووٹر اور رہنما ایسی شراکت کی مخالفت کر سکتے ہیں۔ محض پارلیمانی حمایت کا بندوبست بھی آسان نہیں، کیونکہ اس کے لیے پالیسی اور اعتماد دونوں پر بات کرنا ہوگی۔ایک اور ممکنہ راستہ قومی یا اتحادی حکومت ہے۔ بعض اوقات سخت انتخابی مقابلے کے بعد مختلف نظریاتی جماعتیں ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے مشترکہ حکومت پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔ اسرائیل میں بھی نیتن یاہو اور آئزنکوٹ یا دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان کسی نوعیت کے سمجھوتے کا خیال سامنے آ سکتا ہے۔ اس میں وزارت عظمیٰ کی مدت بانٹنے یا باری باری وزیراعظم بننے کی تجویز بھی شامل ہو سکتی ہے۔

تاہم ایسا انتظام آسان نہیں ہوگا۔ اپوزیشن کے کئی رہنما نیتن یاہو کی قیادت میں حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر چکے ہیں، اور آئزنکوٹ نے بھی ان کے ساتھ باری کی بنیاد پر حکومت کرنے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ جرسلم پوسٹ کے مطابق نیتن یاہو اور آئزنکوٹ پر مشتمل قومی اتحاد فی الحال بعید دکھائی دیتا ہے۔اس تعطل کا ایک ممکنہ انجام نیا انتخاب ہے۔ اگر کوئی فریق 61 ارکان کی حمایت حاصل نہ کر سکا، یا تشکیل پانے والی حکومت کنیسٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام رہی، تو سیاسی بحران دوبارہ انتخابات تک پہنچ سکتا ہے۔ اسرائیل اس سے پہلے بھی مختصر عرصے میں بار بار انتخابات دیکھ چکا ہے؛ 2019 سے 2022 کے درمیان ملک میں پانچ انتخابات ہوئے تھے۔ موجودہ ووٹوں کے نتائج سے دونوں بڑے سیاسی دھڑوں کے لیے حکومت بنانا مشکل دکھائی دے رہا ہے، اس لیے نیا انتخاب محض نظری امکان نہیں۔ مگر فوری طور پر انتخابات کی طرف جانا بھی جماعتوں کے لیے خطرے سے خالی نہیں: کوئی ضمانت نہیں کہ اگلی بار نتیجہ مختلف ہوگا، جبکہ عوامی تھکن اور سیاسی بے یقینی بڑھ سکتی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اگلے سال کے آغاز میں ایک اور انتخاب ممکن ہے۔سیاسی سودے بازی کے دوران اسرائیل کو کئی فوری مسائل درپیش رہیں گے۔

غزہ کی جنگ، یرغمالیوں کا معاملہ، علاقائی سلامتی، ایران کے ساتھ کشیدگی اور مغربی کنارے کی صورتِ حال اگلی حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہوں گے۔ اس کے ساتھ فوجی بھرتی سے متعلق اختلاف بھی اہم ہے: حریدی یا انتہائی مذہبی یہودی مردوں کو فوجی خدمت سے چھوٹ دینے کے معاملے پر عوامی بے چینی موجود ہے۔ عدلیہ کی آزادی اور عدالتی اختیارات میں تبدیلی سے متعلق تنازع بھی ختم نہیں ہوا۔ انتخابی مہم میں ان موضوعات پر جماعتوں کے درمیان اختلاف نمایاں رہا، اور نئی حکومت کا استحکام اسی بات پر منحصر ہو سکتا ہے کہ وہ ان پر کم از کم قابلِ عمل سمجھوتا کر سکے۔ انتخابی اعداد سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ کوئی ایک پالیسی لازماً تبدیل ہو جائے گی، لیکن حکومت سازی میں یہی معاملات سودے بازی کا حصہ بنیں گے۔بین الاقوامی تعلقات بھی نئے سیاسی منظرنامے سے جڑے ہوں گے۔ اسرائیل کے امریکہ، یورپی ممالک اور خطے کے عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات پر جنگ اور فلسطینی مسئلے کے اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حکومت میں تبدیلی سے لہجہ یا ترجیحات بدل سکتی ہیں، مگر خارجہ پالیسی میں فوری اور مکمل الٹ پھیر یقینی نہیں۔ آنے والی قیادت کو داخلی اتحاد برقرار رکھنے کے ساتھ بیرونی دباؤ، سلامتی کے تقاضوں اور سفارتی تعلقات میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔

اگر حکومت کمزور اکثریت پر قائم ہوئی تو بڑے فیصلوں میں اتحادیوں کی رضامندی حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔فی الحال تین امکانات سب سے زیادہ زیرِ بحث ہیں: نیتن یاہو اپنے دائیں بازو کے اتحاد کو وسعت دینے کی کوشش کریں؛ آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن عرب جماعتوں کی حمایت یا شراکت کے ذریعے حکومت بنائے؛ یا مذاکرات ناکام ہونے پر نئے انتخابات ہوں۔ ان میں سے کسی راستے کو حتمی قرار دینا ابھی ممکن نہیں۔ صدر ہرزوگ کے فیصلے، جماعتوں کی باہمی نشستیں، حتمی انتخابی نتائج اور اتحادی رہنماؤں کی شرائط اگلے چند ہفتوں میں صورتِ حال واضح کریں گی۔اس انتخاب نے اسرائیل میں ایک بنیادی حقیقت پھر سامنے رکھ دی ہے: ووٹروں کی واضح رائے بھی کبھی کبھی حکومت بنانے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ اب فیصلہ صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ کس جماعت کو سب سے زیادہ ووٹ ملے، بلکہ اس پر ہوگا کہ کون سا اتحاد اختلاف کے باوجود قائم رہ سکتا ہے۔ اگر کوئی فریق قابلِ قبول سمجھوتے کرتا ہے تو اسرائیل کو نئی حکومت مل سکتی ہے؛ اگر ہر جماعت اپنی سرخ لکیروں پر قائم رہی تو نئے انتخابات کا امکان مضبوط ہوگا۔ فی الحال جواب یہی ہے کہ اسرائیل کسی واضح فاتح کے بجائے طویل سیاسی مذاکرات کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور اتحاد یا نیا انتخاب—دونوں دروازے کھلے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا