حکومت کی نئی آٹو پالیسی سے معاشی استحکام بڑھے گا؟

0
5

مسعود چوہدری

پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک درآمدات پر انحصار کم کرے، مقامی صنعت کو مضبوط بنائے، روزگار پیدا کرے اور اپنی مصنوعات بیرونِ ملک فروخت کرے۔ آٹو سیکٹر ان تمام مقاصد میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ اس سے گاڑیوں کی تیاری ہی نہیں بلکہ پرزہ سازی، اسٹیل، پلاسٹک، شیشہ، ٹائر، بیٹری، الیکٹرانکس، ٹرانسپورٹ اور خدمات کے کئی شعبے وابستہ ہیں۔ اسی پس منظر میں حکومت کی نئی آٹو پالیسی کو معاشی استحکام، صنعتی ترقی اور صارفین کے لیے بہتر انتخاب سے جوڑا جا رہا ہے۔تاہم پالیسی کے اعلان یا مسودے سے خودبخود معاشی استحکام نہیں آتا۔ اس کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پالیسی کتنی واضح، مستقل اور قابلِ عمل ہے، مقامی صنعت کو مسابقت کے لیے کس طرح تیار کرتی ہے، اور صارفین کو واقعی سستی اور معیاری گاڑیاں دیتی ہے یا نہیں۔ اکتوبر 2026 میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق آٹو پالیسی 2026–31 کا مسودہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، مگر اس کی منظوری اور حتمی نفاذ کے مراحل باقی ہیں۔ اس لیے اسے نافذ شدہ پالیسی کے بجائے مجوزہ پالیسی سمجھنا چاہیے۔ پاکستان کی سابقہ آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021–26 کا دور جون 2026 میں ختم ہوا۔ نئی پالیسی کے بارے میں دستیاب اطلاعات میں برآمدات بڑھانے، مقامی پیداوار میں قدرِ افزائی، صنعت کو زیادہ مسابقتی بنانے اور درآمدی ڈھانچے میں تبدیلی جیسے اہداف بیان کیے گئے ہیں۔ مسودے کے مطابق حکومت پانچ برس میں گاڑیوں اور آٹو پرزوں کی برآمدات کو نمایاں طور پر بڑھانا چاہتی ہے۔

بعض رپورٹوں میں تقریباً چھ ارب ڈالر کے مجموعی برآمدی ہدف کا ذکر ہے، لیکن یہ ہدف ابھی پالیسی کے حتمی نفاذ اور تفصیلی منصوبے سے مشروط ہے۔دوسری جانب حکومت نے نیشنل نیو انرجی وہیکل پالیسی 2025–30 کا باضابطہ اعلان بھی کیا ہے۔ اس پالیسی کا ہدف 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں برقی گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک پہنچانا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق اس تبدیلی سے سالانہ تقریباً 2.07 ارب لیٹر ایندھن کی بچت اور قریب ایک ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت متوقع ہے۔ یہ تخمینے اہداف ہیں؛ ان کا حصول چارجنگ نیٹ ورک، بجلی کی دستیابی، گاڑیوں کی قیمت اور مقامی تیاری پر منحصر ہوگا۔ پاکستان ہر سال بڑی مقدار میں پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو یا روپے کی قدر کمزور پڑے تو درآمدی بل بڑھتا ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے پر دباؤ آتا ہے۔ اگر آٹو پالیسی مقامی طور پر گاڑیوں اور پرزوں کی تیاری بڑھائے تو مکمل تیار گاڑیاں اور کئی اہم اجزا درآمد کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

اس سے زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو سہارا ملے گا۔برقی گاڑیوں کا فروغ بھی طویل مدت میں پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم کر سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف گاڑیاں درآمد کرنا کافی نہیں؛ بیٹری، موٹر، چارجر اور متعلقہ پرزوں کی مقامی پیداوار ضروری ہے۔ اگر یہ نظام مقامی صنعت کے ساتھ جڑ جائے تو برقی گاڑیوں کا شعبہ درآمدی خرچ کم کرنے کے ساتھ نئی صنعتی سرگرمی اور روزگار بھی پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر گاڑیوں اور بیٹریوں کا زیادہ تر حصہ بیرونِ ملک سے آئے تو ایندھن کی بچت کے ساتھ ساتھ نئی درآمدات کا بل بھی بڑھے گا۔ اس لیے پالیسی کی کامیابی کا پیمانہ صرف سڑکوں پر برقی گاڑیوں کی تعداد نہیں بلکہ ان میں مقامی طور پر تیار ہونے والے حصوں کا تناسب بھی ہونا چاہیے۔آٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری تب آتی ہے جب کاروباری اداروں کو معلوم ہو کہ ٹیکس، درآمدی ڈیوٹیاں اور مراعات اچانک تبدیل نہیں ہوں گی۔ اگر نئی پالیسی کئی برس کے لیے واضح سمت دے اور مقامی تیاری، تحقیق، تربیت اور برآمدات سے مراعات جوڑے تو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار نئے کارخانے لگانے، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور ٹیکنالوجی منتقل کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

اس سے انجینئرز، ہنرمند کارکنوں، پرزہ ساز کمپنیوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے کام کے مواقع پیدا ہوں گے۔برآمدات میں اضافہ معاشی استحکام کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی آٹو صنعت زیادہ تر مقامی خریداروں پر انحصار کرتی رہی ہے، جبکہ محدود پیداوار اور زیادہ لاگت نے عالمی منڈی میں مقابلہ مشکل بنایا ہے۔ اگر کمپنیاں معیاری گاڑیاں اور پرزے خطے کے دوسرے ممالک کو فروخت کر سکیں تو صنعت صرف مقامی طلب کے اتار چڑھاؤ سے متاثر نہیں ہوگی۔ برآمدی آمدن زرمبادلہ لائے گی، کارخانوں میں پیداوار کا تسلسل بڑھے گا اور بڑی سطح پر پیداوار کے ذریعے فی گاڑی لاگت کم کرنے کا امکان پیدا ہوگا۔البتہ برآمدات کے اہداف اسی وقت حقیقت بن سکتے ہیں جب مصنوعات عالمی معیار، قیمت اور حفاظت کے تقاضوں پر پوری اتریں۔ حکومت کو صنعت سے منسلک فنی تعلیم، معیار جانچنے کی سہولتوں، تحقیق و ترقی اور برآمدی مالیات پر توجہ دینی ہوگی۔ صرف ہدف مقرر کرنے یا مراعات دینے سے بین الاقوامی خریدار حاصل نہیں ہوتے۔

پاکستانی صارفین کا ایک بڑا شکوہ گاڑیوں کی بلند قیمت، محدود انتخاب اور ترسیل میں تاخیر رہا ہے۔ اگر نئی پالیسی درآمدی ڈیوٹیوں کو بتدریج کم کرتی ہے اور مارکیٹ میں مقابلہ بڑھاتی ہے تو مقامی کمپنیوں پر قیمت، معیار اور بعد از فروخت خدمات بہتر بنانے کا دباؤ پڑ سکتا ہے۔ زیادہ انتخاب سے صارفین کو فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ صنعت کو جدت اور کارکردگی میں بہتری لانا پڑے گی۔لیکن درآمدات کو اچانک اور غیر متوازن طور پر کھولنے سے مقامی پرزہ سازوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان میں گاڑیوں کے پرزے بنانے والی بہت سی کمپنیاں مقامی اسمبلی پلانٹس کو سامان فراہم کرتی ہیں۔ اگر تیار گاڑیوں یا درآمدی پرزوں کو ایسے حالات میں ترجیح ملے جہاں مقامی صنعت مقابلہ نہ کر سکے تو کارخانوں کی پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار متاثر ہو سکتے ہیں۔

اس لیے ٹیرف میں کمی تدریجی ہو، مقامی صنعت کو کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مناسب وقت ملے، اور مراعات کا تعلق حقیقی مقامی قدرِ افزائی سے ہو۔صارفین کے تحفظ کے لیے گاڑیوں کی حفاظت، معیار، وارنٹی اور اسپیئر پارٹس کی دستیابی کے ضابطے بھی ضروری ہیں۔ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے انتخاب بڑھ سکتا ہے، مگر عمر، اخراج، حفاظتی معیار اور مرمت کی حالت پر واضح قواعد نہ ہوں تو صارف اور ماحول دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ مقابلہ اسی وقت مفید ہے جب خریدار کو سستی گاڑی کے ساتھ قابلِ اعتماد معیار بھی ملے۔نیو انرجی وہیکل پالیسی کے اہداف ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور تیل پر انحصار گھٹانے سے جڑے ہیں۔ حکومت نے 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد برقی گاڑیوں کا ہدف مقرر کیا ہے۔ برقی گاڑیاں شہروں میں دھوئیں اور شور میں کمی لا سکتی ہیں، لیکن ان کے پھیلاؤ کے لیے چارجنگ اسٹیشن، مرمت کے تربیت یافتہ مراکز، بیٹری کی محفوظ ہینڈلنگ اور بجلی کے قابلِ اعتماد نظام درکار ہیں۔یہ بھی اہم ہے کہ بجلی کی پیداوار کس ذریعے سے ہو رہی ہے۔ اگر برقی گاڑیاں ایسی بجلی سے چلیں جو مہنگے درآمدی ایندھن سے بنائی گئی ہو تو تیل کی درآمد میں کمی کا فائدہ محدود ہو سکتا ہے۔

شمسی، ہوا اور دیگر مقامی توانائی ذرائع کے ساتھ چارجنگ نیٹ ورک کی منصوبہ بندی اس تبدیلی کو زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔ بیٹریوں کے دوبارہ استعمال اور تلفی کے اصول بھی پہلے سے طے ہونے چاہییں تاکہ نئی ماحولیاتی آلودگی پیدا نہ ہو۔پاکستان میں صنعتی پالیسیوں کا ایک مسئلہ اچانک تبدیلیاں اور کمزور عمل درآمد رہا ہے۔ آٹو سیکٹر میں بھی ماضی کے دوران ٹیکس اور درآمدی پابندیوں کے بدلنے سے خریداروں، ڈیلروں اور کارخانوں کو غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ نئی پالیسی کو پارلیمانی اور ادارہ جاتی سطح پر واضح کیا جائے، اس کے اہداف کی سالانہ نگرانی ہو، اور عوام کے سامنے پیش رفت کے اعداد و شمار جاری کیے جائیں تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے۔پالیسی کے اہداف میں صرف پیداوار یا فروخت کی تعداد شامل نہ ہو۔ مقامی پرزہ سازی، گاڑیوں کی قیمت، برآمدی آمدن، روزگار، حفاظت، ایندھن کی بچت اور برقی گاڑیوں کے بنیادی ڈھانچے کے پیمانے بھی مقرر کیے جائیں۔ اگر کسی مراعات کا مقصد برآمدات بڑھانا ہے تو اس کا فائدہ کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں تک پہنچے۔ اگر مقصد مقامی صنعت کو مضبوط بنانا ہے تو یہ بھی جانچا جائے کہ صارف کو اس کے بدلے بہتر قیمت اور معیار مل رہا ہے یا نہیں۔حکومت کی نئی آٹو پالیسی معاشی استحکام میں مدد دے سکتی ہے، کیونکہ اس میں برآمدات، مقامی پیداوار، سرمایہ کاری اور توانائی کی بچت کے امکانات موجود ہیں۔

بھارت یا دیگر منڈیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو ایسی صنعت درکار ہے جو صرف درآمدی پرزے جوڑنے تک محدود نہ رہے بلکہ مقامی مہارت، ٹیکنالوجی اور قدرِ افزائی پیدا کرے۔ برقی گاڑیوں کی پالیسی بھی تیل کے درآمدی بل اور شہری آلودگی میں کمی کا راستہ کھول سکتی ہے۔مگر یہ فوائد یقینی نہیں۔ اگر نئی پالیسی محض کاغذی اہداف تک محدود رہی، ضابطے بار بار بدلے، یا مقامی صنعت کو بہتر بنانے کے بغیر درآمدی مقابلہ کھول دیا گیا تو روزگار اور زرمبادلہ کے مسائل بڑھ بھی سکتے ہیں۔ پائیدار معاشی فائدے کے لیے حکومت کو شفاف قواعد، مرحلہ وار اصلاحات، مقامی پرزہ سازوں کی جدید کاری، صارفین کے تحفظ اور مؤثر نگرانی کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اس صورت میں آٹو پالیسی صرف گاڑیوں کی صنعت کا منصوبہ نہیں رہے گی بلکہ برآمدات، روزگار، زرمبادلہ اور صنعتی خود انحصاری کے وسیع تر مقصد میں حصہ ڈال سکتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا