تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری
بھارت کا دفاعی بجٹ مسلسل بڑھ رہا ہے، جدید ہتھیاروں کی خریداری میں تیزی آ رہی ہے اور ڈرون، فضائی دفاع، توپ خانے اور جنگی طیاروں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے بھارت کا دفاعی بجٹ 78.5 کھرب بھارتی روپے، یعنی تقریباً 82.6 ارب امریکی ڈالر یا 231.3 کھرب پاکستانی روپے کے مساوی ہے۔ 26 اکتوبر 2026 کو بھارت کی ڈیفنس ایکوزیشن کونسل نے مزید 21.2 کھرب بھارتی روپے، تقریباً 22.3 ارب ڈالر یا 62.5 کھرب پاکستانی روپے کی خریداری تجاویز کو منظوری دی ہے۔ یوں ٹوٹل بجٹ 300 کھرب پاکستانی روپے کے لگ بھگ جا پہنچا ہے۔ سمجھنے کے لیے بتا دوں کہ پاکستان کا مالی سال 2026-27 کا ٹوٹل بجٹ 18 کھرب 77 ارب روپے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بھاری بھرکم دفاعی ساز و سامان کی خریداری محض فوجی جدیدکاری کے لیے ہے یا بھارت پاکستان پر قبضہ کرنے کے خواب کی تکمیل کے لیے اپنی صلاحیتیں مسلسل بڑھا رہا ہے؟
مالی سال 2021-22 میں بھارت کا دفاعی بجٹ تقریباً 47.8 کھرب بھارتی روپے تھا، جو 2022-23 میں 52.5 کھرب، 2023-24 میں 59.3 کھرب، 2024-25 میں 62.2 کھرب اور 2025-26 میں 68.1 کھرب بھارتی روپے تک پہنچا۔ 2026-27 کے لیے مختص 78.5 کھرب روپے گزشتہ پانچ برس کے مقابلے میں پہلے ہی تقریباً 64 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے جو کہ تازہ اضافہ کے بعد تقریباً 109 فیصد اضافہ بنتا ہے جو کہ کسی طور بھی عمومی اضافہ نہیں ہے۔
بھارت کی دفاعی جدیدکاری کا اصل مقصد ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے سے زیادہ ان ہتھیاروں کے درمیان رابطہ، میدانِ جنگ کی نگرانی اور فوری کارروائی کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ میں پوشیدہ ہے۔ دفاعی خریداری منظوری میں خودکار ٹریکڈ توپ خانے کا مقصد میکانائزڈ فوجی دستوں کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے مؤثر فائر پاور فراہم کرنا ہے، ڈرون ٹیکنالوجی اور آرٹلری یعنی توپ خانے کی انٹیگریشن کیساتھ جدید ترین تربیت دی جا رہی ہے جس میں اسکول آف آرٹلری، دیولالی، ناسک، مہاراشٹر میں 2 لاکھ فوجیوں کو ٹریننگ پہلے ہی دی جا چکی ہے جبکہ 5 لاکھ کا ہدف رکھا گیا ہے، متعدد ڈرون شکن نظاموں پر کام جاری ہے جن میں کچھ کا مقصد ٹینکوں اور زمینی دستوں کو چھوٹے بغیر پائلٹ طیاروں کے خطرے سے بچانا، جبکہ نگرانی کے ڈرون اور مربوط نگرانی و حملہ آور نظاموں کا مقصد ہدف کی نشاندہی اور کارروائی کی صلاحیت بہتر بنانا بتایا جا رہا ہے۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کامیکازی ڈرون اس صلاحیت میں اضافہ کر سکتے ہیں کہ اہم اہداف کو نسبتاً فاصلے سے نشانہ بنایا جائے؛ مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام چھوٹے فضائی خطرات کے خلاف حفاظتی حصار مضبوط کرنے کے لیے ہیں۔
اسی طرح ڈرون وارفیئر میں ایک ہی وقت میں زیادہ ڈرونز کی تعداد کے حامل حملہ آور ڈرونز کی استعداد بڑھانے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔ ماڈرن ہائبرڈ وارفیئر میں اسے ڈرون سورمپ کے عنوان سے پڑھا، پڑھایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب بحریہ کے لیے ایکٹو آف بورڈ ڈیکوئے نظام جدید اینٹی شپ میزائلوں کو جنگی جہاز سے دور متوجہ کرکے اس کے دفاع میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ جدید بحری پلیٹ فارم سمندری جنگی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔ فضائیہ کے لیے فضائی دفاعی نظام اور ایکس بینڈ ڈوپلر ریڈار بھی اہم ہیں، کیونکہ اگلے مورچوں کے قریب موسم کی زیادہ مقامی اور تفصیلی معلومات فضائی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مدد دیتی ہیں۔ ان تمام نظاموں کو یکجا دیکھا جائے تو ممکنہ حکمتِ عملی یہ بنتی ہے کہ نگرانی، ہدف کی شناخت، دفاع اور فائر پاور کو زیادہ مربوط کیا جائے، تاکہ خطرے کا پتا چلنے سے پہلے ہی جواب دینے کا وقت کم ترین ہو اور مدمقابل کو سرپرائز کیا جا سکے۔
بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق ان منظوریوں کا تقریباً 82 فیصد حصہ مقامی صنعت سے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی ہے، جو دفاعی پیداوار میں خود انحصاری یعنی آتمہ نربھرتا کے پراجیکٹ کا حصہ بیان کی جا رہی ہے، گو کہ اس ماڈل میں ماضی میں کرپشن اور کک بیک کے ثبوت سامنے آ چکے ہیں اور بھارت کے مقامی طور پر تیار کردہ اسلحہ کی کوالٹی بہت اچھی نہیں ہے لیکن اسکے باوجود اخراجات کے اعداد و شمار حیران کن حد تک بڑے اور قابل توجہ ہیں۔ پاکستان کے لیے اس پیش رفت کا سنجیدہ پہلو یہ ہے کہ خطرے کا جائزہ صرف کسی ایک طیارے، ڈرون یا توپ کے مقابلے سے نہیں، بلکہ پورے نظام کی نگرانی، رابطہ کاری، الیکٹرانک جنگ، فضائی دفاع اور مؤثر جوابی صلاحیت کے تناظر میں لینا ہوگا۔
اکتوبر کی نئی منظوریوں میں بھارتی فوج کے لیے خودکار ٹریکڈ توپ خانے، ہلکے کثیرالمقاصد ہیلی کاپٹر، ڈرون شکن نظام، مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام، نگرانی کے بغیر پائلٹ طیارے اور حملہ آور کامیکازی ڈرون بھی شامل ہیں۔ دشوار گزار علاقوں میں نقل و حرکت کے لیے بھاری گاڑیوں کی خریداری کی بھی منظور دی گئی ہے۔ بحریہ کے لیے 10 ہزار ٹن سے زیادہ وزن کے جدید ڈسٹرائر اور اینٹی شپ میزائلوں کو دھوکا دینے والے نظام کی منظوری بھی دی گئی ہے، جبکہ فضائیہ کے لیے فضائی دفاع اور موبائل ایکس بینڈ ڈوپلر ریڈار کی خریداری کی تجاویز بھی شامل ہیں۔دستیاب معلومات کے مطابق 3 جولائی کو 5.2 کھرب بھارتی روپے اور 7 ستمبر 2026 کو 11 کھرب بھارتی روپے کی خریداری کی منظوریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جو کہ ان بجٹس کے علاوہ ہیں۔
فضائی طاقت میں اضافے کے لیے 114 رافیل جنگی طیاروں کی خریداری کی جا رہی ہے۔ فروری 2026 میں اس منصوبے کی ابتدائی منظوری کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔ روس سے ایس 400 اور دیگر خریداریوں کے علاوہ ایک رپورٹ کے مطابق رافیل طیاروں اور چھ امریکی ساختہ P-8I بحری نگرانی کے طیاروں پر مشتمل وسیع تر پیکج کی مالیت تقریباً 36 کھرب بھارتی روپے بتائی گئی ہے۔ مذکورہ شرح مبادلہ سے یہ تقریباً 37.9 ارب ڈالر یا 106.1 کھرب پاکستانی روپے بنتے ہیں۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق بھارت نے 2025 میں فوجی اخراجات پر 92.1 ارب ڈالر خرچ کیے، جو گزشتہ سال سے 8.9 فیصد زیادہ تھے۔ یہ رقم 280 پاکستانی روپے فی ڈالر کی شرح مبادلہ پر تقریباً 258 کھرب پاکستانی روپے بنتی ہے۔ بھارت عالمی فوجی اخراجات میں تقریباً 3.2 فیصد حصے کے ساتھ پانچویں بڑے خرچ کنندگان میں شامل رہا۔ SIPRI نے اضافے کو مئی 2025 کی پاک بھارت جھڑپ اور اس کے بعد جنگی طیاروں اور متعلقہ نظاموں پر اضافی اخراجات سے بھی جوڑا ہےاور بھارت کی جانب سے اسلحہ خریداری میں اضافہ کو اپنی رپورٹ میں نوٹ بھی کیا ہے۔ 2021 سے 2025 کے دوران عالمی اسلحہ درآمدات میں بھارت کا حصہ تقریباً 8.2 فیصد تھا، جس سے وہ دنیا کے بڑے درآمد کنندگان میں شامل رہا۔بھارت اسوقت دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کرنے والا ملک بھی ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر 82 فیصد آتما نربھرتا یعنی خود انحصاری پر گامزن ہے تو صرف 18 فیصد دفاعی ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ بھارت دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے تو سوچیں کہ یہ 82 فیصد اسلحہ کی مقدار و تعداد کیا ہے۔
مئی 2025 میں بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جس نے بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کے نزدیک ڈرون، میزائل، فضائی طاقت اور جدید نگرانی کے نظاموں کی اہمیت واضح کی، یہی وجہ ہے کہ حالیہ بھارتی خریداریوں میں انہی شعبوں پر زور اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ نئی دہلی مستقبل کی جنگ میں مربوط نظاموں، جلد و تیز حملہ آور ہونے، فوری ردعمل اور درست نشانہ لگانے کی صلاحیت کو ترجیح دے رہا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ اور پاکستان کے بڑھتے علاقائی دفاعی تعاون کے معاہدوں نے بھارتی ہندوتوا نظریات کے حامل شدت پسندوں کی نیند حرام کر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو کھربوں روپے کرپشن و کک بیک سکینڈلز کے منظر عام پر آنے کے باوجود اسلحہ خریداری کے لیے بلینک چیک دیا جا چکا ہے اور اس وقت کوئ روک ٹوک موجود نہیں ہے۔ دوسری جانب بھارت اپنے دفاعی بجٹ کے علاوہ اخراجات کا ایک بڑا حصہ خفیہ آپریشنز کے لیے استعمال کر رہے جسکی وجہ سے پاکستان کو مغربی سرحد پر سلامتی کے خدشات، اندرونی شورشوں اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
ایسے حالات میں مشرقی سرحد پر بحران دفاعی منصوبہ بندی کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ بھارت کی ڈرون اور فضائی دفاعی صلاحیت میں اضافے کے تناظر میں پاکستان کو اپنی نگرانی، ڈرون شکن نظاموں، تربیت، مقامی تحقیق اور دفاعی سازوسامان کی دیکھ بھال کا جائزہ لینا ہوگا۔ تاہم ہر بھارتی خریداری کے جواب میں اتنی ہی مالیت کا اسلحہ خریدنا ضروری نہیں؛ محدود وسائل میں مؤثر صلاحیت اور معاشی استحکام زیادہ اہم ہیں۔دفاعی خریداری میں اصل اہمیت قیمت، تکنیکی کارکردگی، تربیت اور عملی تیاری کی ہے؛ صرف اسلحے کی تعداد مؤثر دفاع کی ضمانت نہیں۔
بھارت کی مسلسل فوجی “جدیدکاری” پاکستان کے لیے سنجیدہ جائزے کا تقاضا کرتی ہے، لیکن یہ کہنا کہ جنگ کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے، دستیاب اعداد بو شمار نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت مسلسل جنگ کی تیاری بہر حال کر رہا ہے۔ یہ تو تاحال حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ کب حملہ آور ہونا طے کیا گیا ہے لیکن بڑے پیمانے پر تیاری جاری ہے۔ گو کہ یہ بھی درست ہے کہ یہ تیاری تو بھارت عرصہ دراز سے کر رہا ہے اور ہلکی پھلکی ٹیسٹنگ کے بعد نئے ٹھیکے اور انتخابات میں کامیابی کے ساتھ نئ تیاری کے سفر پر نکل پڑتا ہے لیکن پاکستان کے لیے ہر دم تیار رہنا ہی اہمیت کا حامل ہے۔
پاکستان کو دفاعی تیاری کے ساتھ سفارت کاری، علاقائی تعاون، مقامی ٹیکنالوجی اور معاشی استحکام کو ترجیح دینی چاہیے۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کی قیمت دونوں ممالک کو ادا کرنا ہوگی۔ اصل کامیابی صرف زیادہ اسلحہ خریدنا نہیں، بلکہ اپنی سلامتی مضبوط رکھتے ہوئے جنگ کے خطرے کو کم کرنا ہے۔





