سپریم کورٹ بار کے انتخابات اور متوقع نتائج

0
141
سندر شعیب ایڈووکیٹ

ملک سندر شعیب بھُٹہ ایڈووکیٹ

پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سال 2026-27 کے انتخابات 29 اکتوبر کو منعقد ہو رہے ہیں۔ ملک بھر کے وکلا کی توجہ اس انتخاب پر مرکوز ہے، کیونکہ یہ محض ایک تنظیمی عہدے کا مقابلہ نہیں بلکہ بار کی آئندہ ترجیحات، وکلا کے مسائل اور عدالتی و قانونی معاملات میں اس کے کردار کا تعین بھی کرے گا۔ صدارت کے لیے سید امجد شاہ، انڈیپنڈنٹ گروپ المعروف عاصمہ جہانگیر گروپ، کے امیدوار ہیں، جبکہ سردار امان خان پروفیشنل گروپ کی جانب سے میدان میں ہیں۔ حتمی فہرست میں دونوں امیدوار شامل ہیں۔ دستیاب خبروں کے مطابق 4,630 وکلا ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جن میں لاہور کے تقریباً 1,498 ووٹرز شامل ہیں۔سپریم کورٹ بار ملک کی اہم ترین قانونی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے صدر اور دیگر عہدیدار وکلا کی نمائندگی کرتے ہیں، عدالتی نظام اور قانون سے متعلق معاملات پر مؤقف دیتے ہیں اور وکلا کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں۔ اسی لیے صدارتی انتخاب میں امیدواروں کی ذاتی شہرت کے ساتھ ان کے گروپوں کی تنظیمی طاقت، صوبوں میں رابطے اور انتخابی مہم بھی اہم ہوتی ہے۔ یہ انتخاب اس وقت ہو رہا ہے جب عدالتی نظام، آئینی معاملات، وکلا کی پیشہ ورانہ مشکلات اور بار کونسلوں کے کردار پر عوامی بحث جاری ہے۔

نئی قیادت سے توقع ہوگی کہ وہ ان امور پر واضح اور متوازن مؤقف اختیار کرے۔اس بار صدارت کے لیے مقابلہ دو بڑے گروپوں کے درمیان ہے۔ انڈیپنڈنٹ گروپ کی قیادت عاصمہ جہانگیر کے نام سے وابستہ ہے، جبکہ پروفیشنل گروپ کو حامد خان کی حمایت حاصل ہے۔ دونوں گروپ برسوں سے بار کی سیاست میں سرگرم رہے ہیں اور ان کے امیدواروں کے حق میں ملک کے مختلف شہروں میں رابطے اور تقریبات منعقد ہوئی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران گروپوں کی حمایت کرنے والے وکلا نے اپنے امیدواروں کو بار کے مؤثر اور مضبوط نمائندے کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم ایسی تقریبات میں نظر آنے والی حمایت کو ووٹوں کی قطعی پیش گوئی نہیں سمجھا جا سکتا؛ اصل فیصلہ پولنگ کے دن ووٹر کریں گے۔صدارت کے علاوہ مرکزی عہدوں کے لیے بھی مقابلے ہوں گے۔ سیکرٹری کے عہدے پر میاں عرفان اکرم اور محمد عارف اعوان، ایڈیشنل سیکرٹری کے لیے قاضی شہریار اقبال اور سائرہ خالد راجپوت، جبکہ فنانس سیکرٹری کے لیے محمد تنویر چودھری اور رائے اظہر اقبال کھرل امیدوار ہیں۔

صوبائی نائب صدور اور ایگزیکٹو کمیٹی کی نشستوں پر بھی مقابلے ہوں گے۔ اے پی پی کی جاری کردہ امیدواروں کی فہرست کے مطابق مختلف صوبوں میں کئی امیدوار اپنی نشستوں کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اس لیے نتیجہ صرف صدارتی مقابلے سے طے نہیں ہوگا؛ مرکزی عہدوں اور صوبائی نشستوں کی کامیابی بھی یہ دکھائے گی کہ کس گروپ کو وسیع تر حمایت ملی۔حالیہ انتخابات کا ریکارڈ انڈیپنڈنٹ گروپ کے لیے ایک اہم حوالہ ہے۔ گزشتہ سال کے انتخابات میں اس گروپ نے صدارت سمیت کئی مرکزی عہدوں پر کامیابی حاصل کی تھی، اور ایگزیکٹو کمیٹی میں بھی اس کی پوزیشن مضبوط رہی۔ ڈان کے مطابق 2025-26 کے انتخاب میں ہارون الرشید صدر منتخب ہوئے اور انڈیپنڈنٹ گروپ نے مسلسل تیسری بار صدارت حاصل کی۔ اس تسلسل سے امجد شاہ کے حق میں ایک تنظیمی برتری کا تاثر پیدا ہوتا ہے گروپ کے پاس پہلے سے موجود رابطے، انتخابی تجربہ اور مختلف شہروں میں حامیوں کا ڈھانچا ہے۔ لیکن گزشتہ سال کی کامیابی اس سال کے نتیجے کی ضمانت نہیں، کیونکہ امیدوار، مقامی اتحاد اور ووٹرز کی ترجیحات بدل سکتی ہیں۔پروفیشنل گروپ کے لیے یہ انتخاب اپنی حمایت بڑھانے اور گزشتہ شکستوں کا ازالہ کرنے کا موقع ہے۔

اگر گروپ پنجاب سے باہر، خصوصاً خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں مؤثر ووٹ حاصل کرے تو مقابلہ زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں چند بڑے شہروں کا ووٹ نتیجے پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ لاہور کے ووٹروں کی تعداد خاصی اہم ہے، مگر کسی ایک شہر کی برتری بھی ملک بھر کے مجموعی رجحان کا مکمل متبادل نہیں۔ دوسرے شہروں میں ووٹنگ کا تناسب، امیدواروں کے ذاتی تعلقات، برادری اور صوبائی نمائندگی جیسے عوامل بھی نتائج بدل سکتے ہیں۔ اس لیے صرف کسی ایک جلسے یا حمایت کے اعلان سے کسی امیدوار کی فتح یقینی قرار نہیں دی جا سکتی۔انتخابی عمل کے دوران امیدواروں کی اہلیت اور تعلیمی اسناد سے متعلق اعتراضات بھی خبروں میں زیرِ بحث آئے۔ اکتوبر کے آغاز میں سردار امان خان کی جانب سے امجد شاہ کے کاغذات پر اعتراض کی خبر سامنے آئی، مگر الیکشن کمیٹی نے امجد شاہ کے کاغذات منظور کر لیے۔ بعض رپورٹس سے انتخابی مہم میں ایک اضافی بحث پیدا ہوئی ہے، لیکن فیصلہ شدہ اعتراض کو حتمی نتیجے کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ووٹرز عموماً امیدوار کی اہلیت کے ساتھ اس کے تجربے، رابطوں، وعدوں اور بار کے لیے پیش کردہ ترجیحات کو بھی دیکھتے ہیں۔

متوقع نتیجے کے بارے میں محتاط اندازہ یہ ہے کہ مقابلہ قریبی ہو سکتا ہے، تاہم گزشتہ سال کی کامیابیوں اور تنظیمی تسلسل کے باعث انڈیپنڈنٹ گروپ کو معمولی برتری حاصل دکھائی دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امجد شاہ کی جیت یقینی ہے۔ اگر پروفیشنل گروپ ووٹروں کو بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں تک لانے میں کامیاب ہوا اور مختلف صوبوں میں اپنی حمایت کو ووٹ میں تبدیل کر سکا تو نتیجہ پلٹ سکتا ہے۔ اسی طرح بعض نشستوں پر امیدواروں کی مقامی مقبولیت جماعتی وابستگی سے زیادہ اثرانداز ہو سکتی ہے۔ دستیاب خبروں میں کوئی مستند رائے شماری یا ایسا قابلِ اعتماد ڈیٹا سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر ووٹوں کے فرق کی پیش گوئی کی جا سکے۔انتخابات کے بعد نئی قیادت کے سامنے اصل امتحان وعدوں پر عمل ہوگا۔ وکلا کو بار کی خدمات، فلاحی سہولتوں، پیشہ ورانہ تحفظ اور عدالتوں تک رسائی سے متعلق عملی بہتری درکار ہے۔ بار کو عدالتی اور آئینی معاملات پر اپنا مؤقف دیتے وقت قانونی دلیل، ادارہ جاتی ذمہ داری اور وکلا کی اجتماعی رائے کو سامنے رکھنا ہوگا۔

جیتنے والے گروپ کے لیے مخالف گروپ کے حامیوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوگا، کیونکہ ایسوسی ایشن پوری قانونی برادری کی نمائندگی کرتی ہے۔ مقابلہ انتخاب تک محدود رہے تو بار کے اندر اختلاف کے باوجود مشترکہ کام کی گنجائش باقی رہتی ہے۔29 اکتوبر کی پولنگ میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ فیصلہ کن ہوگا۔ زیادہ ووٹنگ سے نہ صرف جیتنے والے امیدوار کو مضبوط مینڈیٹ ملے گا بلکہ تنظیم کے اندر انتخابی عمل پر اعتماد بھی بڑھے گا۔ اس مقابلے میں انڈیپنڈنٹ گروپ کو سابقہ انتخابی تسلسل اور منظم حمایت کا فائدہ حاصل ہے، جبکہ پروفیشنل گروپ کے لیے ووٹرز کو متحرک کرنا اور صوبائی حلقوں میں بہتر کارکردگی دکھانا کامیابی کی کنجی ہوگا۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر امجد شاہ کو معمولی برتری کا امیدوار کہا جا سکتا ہے، مگر حتمی فیصلہ گنتی کے بعد ہی ہوگا۔ اس انتخاب کی اہمیت کسی ایک گروپ کی جیت سے آگے ہے: نئی قیادت کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ وکلا کے مسائل پر یکجا آواز اٹھا سکتی ہے اور بار کی نمائندہ حیثیت کو مؤثر انداز میں برقرار رکھ سکتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا