اسلام آباد(طلوع نیوز)ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، نشیبی علاقے زیرآب آگئے، ہری پور میں مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہوگئے۔پلندری آزاد کشمیر میں پہاڑی تودہ مکان پر گرنے سے تین سالہ بچی جان سے گئی اور تین افراد زخمی ہوگئے۔ محکمہ موسمیات نے یکم اگست تک پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مزید طوفانی بارش کی پیش گوئی کردی۔مختلف شہروں میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہری پور کے نواحی گاؤں گاندھیاں میں طوفانی بارش کے دوران مکان کی چھت گر گئی، ملبے تلے دب کر میاں بیوی جاں بحق ہو گئے، محمد اسحاق اور طاہرہ بی بی کی لاش مقامی افراد نے ملبے سے نکال کر اسپتال منتقل کی۔ادھر پلندری آزاد کشمیر میں پہاڑی تودہ مکان پر گرنے سے تین سالہ بچی جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے۔راولاکوٹ اور گردونواح میں بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگٸی۔ درجنوں مکانات اور دکانيں متاثر ہوٸیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نالے پر موجود ڈیم اور دریک عید گاہ کے مقام پر تعمیر کیےگئے پل کی وجہ سے نقصان ہو رہا ہے۔لاہور میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ گلشن راوی میں سب سے زیادہ بارش ایک سو چالیس ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ پانی والا تالاب میں ایک سو پچیس ملی میٹر ، قرطبہ چوک میں ستانوے ،لکشمی چوک میں نواسی تاج پورہ میں اٹھاون ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، سمن آباد میں چوالیس ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔اسلام آباد میں واقع راول ڈیم کے اسپل ویز کھول دیے گئے ہیں ، ڈیم میں صرف تین فٹ گنجائش رہ گئی، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ایک ہزار سات سو باون فٹ ہے اور اس وقت پانی کی سطح ایک ہزار سات سو انچاس فٹ سے زائد ہے۔ملک میں مون سون بارشوں کے بعد دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔دریائے راوی میں بھی پانی میں اضافہ ہورہا ہے۔ جس سے کمالیہ اور ننکانہ صاحب میں پانی دریا کنارے آباد دیہات میں داخل ہورہا ہے۔مسلسل بارشیں اور بھارت سے پانی کے ریلے کے بعد دریائے راوی اور ستلج میں پانی کی سطح بلند ہے۔کمالیہ سے گزرنے والے دریائے راوی میں اس وقت پانی کی سطح بڑھ گئی ہے، ہیڈ بلوکی سے 51536 کیوسک پانی کا اخراج ہو ا ہے جس کے بعد کمالیہ میں دریا کنارے آباد بستیوں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔ننکانہ صاحب میں بھی دریائے راوی میں تیز بہاؤ کی وجہ سے سیلابی پانی نواں کوٹ، واڑہ جٹاں، گنیش پور، ہیڑے اور بھچوکی پار سمیت دیگر دیہات میں داخل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے کچے مکانات منہدم ہورہے ہیں۔بھارت سے آنے والے سیلابی ریلے دریائے ستلج میں داخل ہوگئے، جس سے بہاولپور کے نواحی علاقے ماڑی قاسم شاہ میں دیہات زیر آب آگئے۔دریائے سندھ میں تربیلا، کالاباغ، چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ تونسہ اور گڈو بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔حویلی لکھا میں دریائے ستلج ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر لنڈو فلڈ گیٹ کھول دیا گیا ہے، حفاظتی بند کے دونوں اطراف کے رہائشیوں میں گیٹ کھولنے سے متعلق تنازعہ چل رہا تھا۔ گیٹ کے ایک طرف کے رہائشی لوگوں نے فلڈ گیٹ بند کر دیا تھا دوسری جانب کے لوگ گیٹ کھولنا چاہتے تھے۔مقامی ایم این اے معین وٹو نے خود موقع پر پہنچ کر بند سیفل کھلوایا، اگر فلڈ موگا نہ کھولا جاتا تو حفاظتی بند ٹوٹنے کا خطرہ تھا۔حویلی لکھا میں دریائے ستلج ہیڈسلیمانکی کے مقام پر سیلاب کئی آبادیاں بہا لے گیا کچھ لوگ ابھی تک زندگی داؤ پر لگا کر اپنی فیملیز کے ساتھ گاؤں میں موجود ہیں۔پاکپتن میں سیلاب سے دریائی بیلٹ بری طرح سے متاثر ہوا ہے، ہزاروں لوگوں کے گھر، فصلیں، جانور اور املاک تباہ ہوگئیں۔ انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات نہ کرنے اور امداد نہ ملنے پر سیلاب متاثرین سراپا احتجاج ہیں۔عارف والا میں دریائے ستلج کے مقام پر سیلابی ریلے سے تباہ کاریاں جاری ہیں، کڑور روپے مالیت کی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ اہل علاقہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔بھارتی آبی جارحیت کے نتیجہ میں دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں ایک دفعہ پھر مسلسل اضافہ ھوگیا ہے۔ عارف والا میں دریائے ستلج میں پانی کی سطح اس وقت تقریباً 0 43 84 کیوسک ہے۔متاثرین کہتے ہیں کسانوں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے،دھان کپاس مکئی تل کی فصیلیں تباہ ہوگئیں۔ ہم لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔






