اسلام آباد(طلوع نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ میں نجکاری کا حامی نہیں ہوں،اس سال پی آئی اے کا خسارہ 110 ارب روپے ہے،742 ارب روپے کا قرضہ اور ادائیگی کیلئے مزید قرضہ لیا جاتا ہے،ہمارے پاس اور کوئی حل نہیں،سیاست سے ہٹ کر قومی ادارے کو بچانا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے تبدیلی پاکستان بین الاقوامی ائیر لائن کارپوریشن ترمیمی بل 2023ء سینٹ میں پیش کیا،چیئرمین سینیٹ نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کا 40 فیصد کنٹرول پرائیویٹ سیکٹر کو دینا چاہیے،اگر پی آئی اے کو پرائیویٹ نہ کیا تو بے عزتی اور نقصان الگ ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس برس پی آئی اے کا خسارہ 110 ارب روپے ہے۔742 ارب روپے کا قرضہ ہے،ادائیگی کیلئے مزید قرضہ لیا جاتا ہے۔وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ میں نجکاری کا حامی نہیں ہوں،پی ٹی آئی کا کوئی ملازم روزگار نہیں ہو گا۔پی آئی اے کے پاس براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری ہونی ہے،ہمارے پاس 28 جہاز ہیں اور پوری دنیا نے ایک جہاز تک لیز پر نہیں دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اور کوئی حل نہیں،سیاست سے ہٹ کر قومی ادارے کو بچانا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر ریلوے اور ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ ہمارے پڑوسی ملک میں 8 ائیر پورٹ آؤٹ سورس ہیں،آؤٹ سورس کا مطلب یہ نہیں کہ ائیر پورٹ بیچا یا گروی رکھا جا رہا ہے۔ائیر پورٹ آؤٹ سورس کرنے سے کوئی ملازم بیروزگار نہیں ہو گا،اسلام آباد ائیر پورٹ 15 برس کیلئے آؤٹ سورس ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں،اب ہمیں بیسٹ پریکسٹس کو فالو کرنا ہو گا۔ خواجہ سعد رفیق کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی آئی اے کو ری اسٹرکچر نہ کیا تو ایک ڈیڑھ سال میں بند ہو جائے گا،امید ہے کہ پی ٹی آئی کی تین ماہ میں برطانیہ میں پروازیں بحال ہو جائیں گی۔ جبکہ گزشتہ دنوں امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کی واشنگٹن ڈی سی میں ملکیت تاریخی اور قیمتی عمارت فروخت کر دی گئی تھی۔






