سرکاری اداروں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے ہاؤسنگ سوسائٹیاں چلانا نہیں ،سپریم کورٹ

0
137

اسلام آباد(طلوع نیوز)سپریم کورٹ میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر آئی بی کی ہاؤسنگ سوسائٹی ہو گی تو اس کے ساتھ کون مقابلہ کریگا؟

سرکاری اداروں کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا معاملہ ہمارے سامنے نہیں ،اس معاملے پر الگ سے از خود نوٹس ہو سکتا ہے،دیکھتے ہیں از خود نوٹس لینا ہے یا نہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےکی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم نے ایف آئی اے کی رپورٹ کا جائزہ لیا ہے،

رپورٹ کیمطابق 175 ارب روپے کا نقصان ہوا،رپورٹ میں ایک مجموعی تخمینہ دیا گیا مگر سوسائٹیوں سے وضاحت طلب نہیں کی گئی۔دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے کیسے پرائیویٹ بزنس میں اپنا نام استعمال کر سکتا ہے؟کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے؟ایف آئی اے پر زمینوں پر قبضے کے سنگین الزامات ہیں

،آئی بی بھی بظاہر زمینوں پر قبضوں میں ملوث ہے،ان اداروں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے ہاوسنگ سوسائٹی چلانا نہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آئی بی کی ہاؤسنگ سوسائٹی ہو گی تو اس کے ساتھ کون مقابلہ کریگا،سرکاری اداروں کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا معاملہ ہمارے سامنے نہیں ،اس معاملے پر الگ سے از خود نوٹس ہو سکتا ہے

دیکھتے ہیں از خود نوٹس لینا ہے یا نہیں ،بہتر ہو گا ہمارے سامنے کوئی درخواست آ جائے،ہم از خود نوٹس لینے میں محتاط ہیں ،از خود نوٹس کا مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔بعد ازاں عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا