قندھار: ڈی فیکٹو انتظامیہ کے قریبی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ قندھار صوبے پر حالیہ حملہ ایک حملہ آور نے کیا تھا جو پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوا تھا۔ہفتہ کے روز المرصاد نے خبر دی کہ قندھار حملہ کرنے والا حملہ آور مدیہ روف اسد بیک ایک وسطی ایشیائی شہری ہے جو دو ماہ قبل پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں داعش کی خراسان شاخ میں شامل ہوا تھا اور واقعے سے چند روز قبل پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوا تھا۔اس میڈیا ادارے نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ قندھار میں خودکش حملہ آور نے گزشتہ دو ماہ کے دوران بلوچستان میں “نظریاتی ” تربیت حاصل کی تھی۔
المرسد نے قندھار میں خودکش حملہ آور سے منسوب تصاویر بھی شائع کیں اور کہا کہ وہ حملے سے کئی دن پہلے قندھار میں داخل ہوا تھا۔قندھار میں طالبان حکومت کے مقامی حکام کے مطابق جمعرات کی صبح قندھار میں بینک نور پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ اس حملے میں چار افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے تھے، تاہم کچھ میڈیا اداروں نے مقامی ذرائع اور اسپتالوں کے حوالے سے ہلاکتوں کے زیادہ اعداد و شمار کی اطلاع دی تھی۔تاہم المرصاد نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کا صوبہ بلوچستان اب “داعش کی خراسان شاخ کا ایک اہم مرکز” ہے اور داعش کی اس شاخ کا سربراہ شہاب المہاجر اور اس کے ساتھی بھی اسی پاکستانی صوبے میں موجود ہیں۔
المرصد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں داعش کے ٹھکانے، تربیتی مراکز اور بم بنانے کی فیکٹریاں ہیں۔اس میڈیا ادارے نے مزید لکھا کہ ایران کے شہر کرمان میں ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی بھی پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک تاجک شہری نے کی تھی۔داعش نے جنوری میں ایران کے شہر کرمان میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جس میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔





