کراچی : پاکستان میں نیگلیریا کا 22 سالہ مرد مریض دنیا بھر میں زندہ بچ جانے والے 8 افراد میں شامل ہو گیا۔
پی این ایس شفا ہسپتال کراچی کے کمانڈنٹ ڈاکٹر رفیق نے دی نیوز کو بتایا کہ یہ مریض پوری دنیا میں نیگلیریا لیبارٹری کے کل تصدیق شدہ کیسز میں سے ایک ہے جو اب تک زندہ بچ چکے ہیں۔ مریض کئی مہینوں سے زیر علاج تھا۔ امریکہ میں صحت عامہ کے قومی ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشنز (سی ڈی سی) نے بھی مریض کے زندہ رہنے کا اعتراف کیا ہے۔ آلودہ آبی ذخائر میں تیراکی یا غوطہ خوری کرتے وقت امیبا ناک کے گودے میں داخل ہوسکتا ہے یا جیسا کہ پاکستان میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے، آلودہ پانی سے ناک کو سیراب کرتا ہے۔ ناک سے یہ دماغ میں داخل ہوتا ہے اور دماغ کے ٹشوز کو نگلنا شروع کر دیتا ہے اور اس طرح اسے “دماغ ی کھانے والا امیبا” کا نام دیا جاتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں نیگلیریا انفیکشن کے معاملے میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں پی اے ایم کا پہلا کیس اکتوبر 2008 میں کراچی میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کے ایک عشرے کے اندر ہی پاکستان میں کیسز کی تعداد 50 سال کے عرصے میں امریکہ سے بھی زیادہ ہو گئی۔2023 تک نیگلیریا پاکستان میں سات افراد کی جان لے چکا ہے۔ ان میں سے 6 اموات کراچی میں رپورٹ ہوئیں (4 کیسز کراچی، ایک حیدرآباد اور ایک کوئٹہ سے) اور ایک لاہور میں رپورٹ ہوا۔





