نواب شاہ : آصفہ بھٹو زرداری این اے 207 شہید بینظیر آباد سے بلامقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہو گئیں۔ انہوں نے 17 مارچ کو ضمنی انتخاب لڑنے کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کیے تھے اور جمعرات کو جانچ پڑتال کے عمل کے بعد ریٹرننگ افسر نے ان کے کاغذات کی منظوری دے دی تھی۔یہ نشست ان کے والد آصف علی زرداری نے صدر منتخب ہونے کے بعد خالی کی تھی۔
ریٹرننگ افسر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تین امیدواروں عبدالرسول بروہی، امان اللہ اور معراج احمدنے ضمنی انتخابات کے لیے اپنے نام واپس لے لیے ہیں جس کی ایک کاپی موجود ہے۔آصفہ نے کہا کہ وہ اس حلقے سے بلا مقابلہ منتخب ہونے پر “شکر گزار اور فخر” محسوس کرتی ہیں۔
آصفہ بھٹو زرداری نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ، “میں عہد کرتی ہوں کہ میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ ، لگن کے ساتھ اور سیاسی وابستگی سے قطع نظر اپنے تمام حلقوں کی خدمت کروں گی۔انہوں نے اپنے حلقے کے عوام، پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور میڈیا اداروں کی موجودگی اور حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ان کے بہن بھائیوں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری نے بھی انہیں مبارکباد دی۔ بختاور نے کہا کہ نواب شاہ پہلے ہی فتح کا جشن منا رہا ہے، وہ پیپلز پارٹی کے نئے قانون ساز پر اس سے زیادہ فخر نہیں کر سکتیں۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بھی آصفہ کو بلامقابلہ منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آصفہ کی جیت پیپلز پارٹی کے تمام کارکنوں کے لیے خوشی کا باعث ہے۔آصفہ نے سیاست اور سماجیات میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے اور عالمی صحت اور ترقی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ انہوں نے ابتدائی طور پر 2012 میں پولیو کے خاتمے کے لئے خیر سگالی سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں جس نے ان کا چہرہ عوام میں مشہور کر دیا۔انہوں نے حال ہی میں ہونے والے عام انتخابات میں سیاست میں ایک اہم کردار ادا کیا جب انہوں نے سانگھڑ، شہید بینظیر آباد اور نوشہرو فیروز اضلاع میں اپنے بھائی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر پارٹی امیدواروں کے لئے جارحانہ انتخابی مہم چلائی
۔دوسری جانب پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ این اے 207 سے اس کے امیدوار غلام مصطفی رند کو سکرنڈ پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں پارٹی نے کہا کہ رند اس کے نمائندے تھے جنہیں ضمنی انتخابات میں آصفہ کے خلاف مقابلہ کرنا تھا۔پارٹی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے تھے لیکن کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد پولیس نے انہیں بغیر کسی وجہ کے گرفتار کرلیا۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ اور جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ علی پال نے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس انتقام کے لیے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی عوام کے ووٹوں سے خوفزدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری پارٹی رند کے ساتھ کھڑی ہے اور پولیس کی کارروائی بزدلانہ ہے۔شیخ نے کہا، “ہمارے امیدواروں کو اس طرح کے اشتعال انگیز ہتھکنڈوں سے ڈرایا نہیں جا سکتا ہے۔ہمارے امیدوار کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے، اگر ہمارے امیدوار کو فوری طور پر رہا نہیں کیا گیا تو سخت احتجاج کیا جائے گا۔تاہم وزیر داخلہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امیدوار کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا تھا۔





