اصلاحات! پاکستان سے آئی ایم ایف کی توقعات کس حد تک درست ہیں؟

0
14

عمران رشید

اکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کا تعلق محض قرض لینے اور واپس کرنے کا معاملہ نہیں۔ اس تعلق کے پیچھے ملکی معیشت کی ساخت، ریاستی آمدن و خرچ، توانائی نظام، سرکاری اداروں کی کارکردگی اور عام شہری کی زندگی سب شامل ہیں۔ جب آئی ایم ایف پاکستان سے اصلاحات کا مطالبہ کرتا ہے تو اصل سوال یہ بنتا ہے کہ ان میں سے کون سی اصلاحات ملک کے اپنے مفاد میں ہیں، کون سی موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے ضروری ہیں، اور کون سی ایسی ہیں جن کا بوجھ غیر متناسب طور پر عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ اس سوال کا جواب نہ مکمل تائید میں ہے، نہ مکمل مخالفت میں۔پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے شدید دباؤ، محدود زرمبادلہ، کم ٹیکس آمدن، بڑھتے ہوئے قرضوں اور توانائی کے شعبے کے خساروں جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں آئی ایم ایف سے مالی معاونت حاصل کرنا اکثر ناگزیر بن جاتا ہے۔ قرض پروگرام کے ذریعے حکومت کو فوری مالی سہارا اور عالمی منڈیوں میں ایک حد تک اعتماد مل سکتا ہے۔ مگر قرض کے ساتھ طے ہونے والی شرائط بھی ہوتی ہیں: بجٹ خسارہ کم کرنا، ٹیکس آمدن بڑھانا، توانائی کی قیمتوں اور سرکاری اداروں کے نقصانات پر قابو پانا، زرِمبادلہ کے نظام کو نسبتاً مستحکم بنانا اور معیشت میں زیادہ شفافیت لانا۔ ان میں سے کئی اہداف بذاتِ خود غیر معقول نہیں؛ اصل بحث ان کے طریقۂ کار، رفتار اور سماجی اثرات پر ہے۔

پاکستان کی کمزور ٹیکس بنیاد ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ معیشت کے بڑے حصے سے اس کی حقیقی گنجائش کے مطابق ٹیکس وصول نہیں ہو پاتا، جبکہ تنخواہ دار طبقہ اور پہلے سے باقاعدہ نظام میں شامل کاروبار نسبتاً آسانی سے ٹیکس کے دائرے میں آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً حکومت اکثر بالواسطہ ٹیکسوں، بجلی و گیس کے بلوں اور اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے آمدن بڑھاتی ہے۔ ایسے ٹیکس غریب اور متوسط گھرانوں پر زیادہ بھاری پڑ سکتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی آمدن کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف کا زیادہ آمدن اور وسیع ٹیکس بنیاد کا مطالبہ اصولی طور پر درست ہے؛ مگر انصاف اسی وقت قائم ہوگا جب زراعت، جائیداد، خوردہ تجارت، خدمات اور بااثر شعبوں سے ان کی استطاعت کے مطابق حصہ لیا جائے، اور کم آمدن والوں کو تحفظ دیا جائے۔

ٹیکس اصلاحات کا مقصد صرف سرکاری خزانے میں رقم جمع کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کو شہریوں کو یہ دکھانا ہوگا کہ حاصل شدہ آمدن کہاں خرچ ہو رہی ہے۔ اگر ٹیکس بڑھیں مگر تعلیم، صحت، صاف پانی، ٹرانسپورٹ اور سماجی تحفظ میں بہتری نظر نہ آئے تو عوام کا اعتماد کم ہوگا۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے ساتھ ٹیکس نظام آسان، پیش گوئی کے قابل اور بدعنوانی سے پاک ہونا چاہیے۔ بار بار پالیسی بدلنے، پیچیدہ ضابطوں اور غیر مساوی نفاذ سے کاروباری سرگرمی متاثر ہوتی ہے۔ اصلاحات کو ایسے نظام کی طرف لے جانا چاہیے جہاں شہری یہ سمجھ سکیں کہ ٹیکس کیوں دیا جا رہا ہے اور اس کے بدلے انہیں کیا مل رہا ہے۔توانائی کا شعبہ بھی آئی ایم ایف پروگراموں کا اہم حصہ ہے۔ بجلی اور گیس کی پیداوار و ترسیل میں نقصانات، بجلی چوری، کمزور وصولیاں اور سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی گردشی قرضے کو بڑھاتی ہیں۔ یہ خسارہ بالآخر بجٹ، صارفین یا مستقبل کے ٹیکس دہندگان پر منتقل ہوتا ہے۔

اس لیے نظامی نقصانات کم کرنا، بلوں کی وصولی بہتر بنانا، سستی اور قابلِ اعتماد توانائی کی پیداوار بڑھانا اور اداروں کے نظم و نسق کو بہتر کرنا قومی ضرورت ہے۔ لیکن ہر مالی خسارے کا فوری حل نرخ بڑھانا نہیں ہو سکتا۔ مسلسل قیمتوں میں اضافہ گھرانوں کی قوتِ خرید گھٹاتا ہے اور صنعت کی پیداواری لاگت بڑھا سکتا ہے۔ اصلاحات میں کم آمدن گھرانوں کے لیے مؤثر رعایت، لائن لاسز میں کمی، شفاف سبسڈی اور متبادل توانائی کے قابلِ عمل منصوبے شامل ہونے چاہییں۔آئی ایم ایف عموماً بجٹ خسارہ محدود کرنے اور حکومت کے اخراجات کو آمدن کے مطابق رکھنے پر زور دیتا ہے۔ مالی نظم ضروری ہے، کیونکہ بے قابو خسارہ قرض اور مہنگائی کا دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ تاہم بجٹ میں کمی کا سارا بوجھ ترقیاتی اخراجات، تعلیم، صحت اور مقامی خدمات پر ڈالنا نقصان دہ ہوگا۔ اخراجات کی ترجیحات پر نظرثانی کرتے ہوئے غیر ضروری سرکاری خرچ، ناقص منصوبوں اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی اصلاح بھی ساتھ ہونی چاہیے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کون سی بچت فوری طور پر ممکن ہے اور کون سا خرچ دراصل انسانی ترقی اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری ہے۔

سرکاری اداروں کی اصلاح یا نجکاری کے بارے میں بھی یہی متوازن رویہ درکار ہے۔ مسلسل خسارے میں چلنے والے ادارے قومی خزانے پر بوجھ بنتے ہیں، اس لیے ان کی گورننس، مالیاتی نظم اور خدمات کا جائزہ ضروری ہے۔ لیکن نجکاری ہر مسئلے کا خودکار حل نہیں۔ اگر شفاف مقابلہ، مؤثر ضابطہ کاری اور عوامی مفاد کا تحفظ نہ ہو تو سرکاری اجارہ داری کی جگہ نجی اجارہ داری لے سکتی ہے۔ اصلاحات کا مقصد ادارے کا نام بدلنا نہیں بلکہ بہتر خدمت، جواب دہی اور مالی پائیداری ہونا چاہیے۔ ہر ادارے کے لیے اس کی نوعیت کے مطابق حل تلاش کرنا زیادہ مناسب ہے۔زرِمبادلہ کی قدر اور شرحِ مبادلہ کے معاملے میں آئی ایم ایف کا مؤقف عموماً یہ ہوتا ہے کہ مصنوعی طور پر کرنسی کی قدر برقرار رکھنا ذخائر کو کم اور بیرونی عدم توازن کو بڑھا سکتا ہے۔ اس نکتے میں وزن ہے۔

مگر کرنسی کی قدر میں تیز گراوٹ سے ایندھن، ادویات، کھاد اور مشینری مہنگی ہو سکتی ہے، جس کا اثر مہنگائی اور پیداوار دونوں پر پڑتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ شرحِ مبادلہ کو حقیقی معاشی حالات سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ برآمدات بڑھانے، درآمدی انحصار کم کرنے اور غیر ضروری بیرونی ادائیگیوں کو محدود کرنے کی طویل مدتی حکمتِ عملی بھی ہو۔ محض روپے کی قدر گھٹانے سے برآمدی صلاحیت خود بخود پیدا نہیں ہوتی۔آئی ایم ایف کے پروگراموں پر ایک اہم تنقید یہ ہے کہ مالی اہداف اکثر مختصر مدت میں پورے کیے جا سکتے ہیں، مگر پیداواری ڈھانچے کی تبدیلی وقت مانگتی ہے۔ اگر حکومت فوری طور پر محصولات بڑھائے اور سبسڈی کم کرے لیکن صنعت، زراعت، ہنرمندی، تحقیق اور برآمدی سہولتوں میں سرمایہ کاری نہ کرے تو معیشت کی رفتار کمزور رہ سکتی ہے۔ بیرونی قرض کی ادائیگی اور مالی استحکام ضروری ہیں، لیکن پائیدار حل تبھی نکلے گا جب ملک زیادہ پیداوار کرے، بہتر روزگار پیدا ہو اور برآمدی آمدن میں اضافہ ہو۔ اس لیے ہر قرض پروگرام کے ساتھ قومی پیداواری حکمتِ عملی بھی درکار ہے۔

یہاں حکومت کی ذمہ داری بنیادی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ حکومت کرتی ہے، اس لیے اسے ہر شرط کی تشریح، ترجیحات اور عوامی اثرات کے بارے میں پارلیمان اور شہریوں کو جواب دینا چاہیے۔ اصلاحات کو صرف بیرونی دباؤ کا نتیجہ کہہ دینا آسان ہے، مگر ٹیکس چوری روکنا، سرکاری وسائل کا بہتر استعمال اور توانائی کے نقصانات کم کرنا پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ دوسری طرف، حکومت کو یہ حق اور ذمہ داری بھی حاصل ہے کہ وہ معاہدے کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات کی ترتیب اور نفاذ کا ایسا راستہ طے کرے جو کمزور طبقوں کو غیر ضروری نقصان سے بچائے۔عوام کے لیے سب سے تکلیف دہ پہلو مہنگائی، بے روزگاری اور حقیقی آمدن میں کمی ہے۔ اگر اصلاحات کے دوران سماجی تحفظ کمزور ہو تو معاشی استحکام کی سیاسی اور اخلاقی بنیاد بھی کمزور پڑتی ہے۔ مستحق گھرانوں کی مالی مدد، بچوں کی غذائیت، بنیادی صحت اور معیاری تعلیم جیسے شعبوں کو تحفظ دینا خرچ نہیں بلکہ ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

امداد کے پروگرام شفاف، ہدفی اور باقاعدہ نظرثانی کے تابع ہوں، تاکہ مدد واقعی ان لوگوں تک پہنچے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔تو کیا آئی ایم ایف کی پاکستان سے توقعات درست ہیں؟ ان کا بنیادی مقصدمالی نظم، ٹیکس آمدن میں اضافہ، توانائی کے خساروں میں کمی، شفافیت اور معیشت کو بیرونی ادائیگیوں کے قابل بنانادرست اور ضروری ہے۔ لیکن توقعات کا انصاف اس بات پر منحصر ہے کہ اصلاحات کس پر لاگو ہوتی ہیں، کس رفتار سے نافذ ہوتی ہیں اور ان کے فوائد و نقصانات کون برداشت کرتا ہے۔ اگر مراعات یافتہ طبقے محفوظ رہیں، جبکہ عام شہری ہی ہر نئے ٹیکس اور نرخ اضافے کا بوجھ اٹھائے، تو درست مقصد بھی ناانصافی کے ذریعے حاصل ہوگا۔پاکستان کو آئی ایم ایف کی شرائط کو نہ اندھی قبولیت سے دیکھنا چاہیے، نہ مکمل انکار سے۔ ضرورت یہ ہے کہ مالیاتی استحکام کو قومی ملکیت والی اصلاحات سے جوڑا جائے: ٹیکس کا منصفانہ نظام، توانائی کے شعبے کی حقیقی بہتری، پیداواری اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ، سرکاری اداروں کی جواب دہی اور کمزور طبقوں کا تحفظ۔ کامیابی صرف پروگرام کی قسط ملنے یا خسارے کے ایک عدد تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب معیشت قرضوں کے مسلسل سہارے کے بغیر چل سکے، روزگار بڑھے، بنیادی سہولتیں بہتر ہوں اور شہریوں کو محسوس ہو کہ قربانی سب نے دی ہے، فائدہ بھی سب تک پہنچے گا۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس پر آئی ایم ایف کی توقعات اور پاکستان کی اصلاحات، دونوں کو پرکھا جانا چاہیے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا