کرپشن سے پاک پنجاب،گرفتاریاں اور سب اچھا کی زمینی حقیقت؟

0
23

تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا یہ اعلان کہ “کرپشن سے پاک پنجاب ہماری منزل ہے” سیاسی طور پر یقیناً ایک پرکشش بیانیہ ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ منزل تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے؟ اور سفر کہاں تک طے ہوا؟ اس کا جواب خود حکومت کے اپنے اعدادوشمار میں موجود ہے، اور وہ تصویر اتنی سادہ نہیں جتنی سرکاری پریس ریلیزوں میں دکھائی دیتی ہے۔چوہدری سالک حسین کی گفتگو کی چبھن اپنی جگہ لیکن اعداد و شمار کی روشنی میں یہ جاننا تو ہر پاکستانی کا حق ہے کہ دراصل زمینی حقائق کیا ہیں۔

زیادہ دور سے شروع نہیں کرتے، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے اکتوبر 2026 کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں 600 سے زائد افراد کرپشن کے الزامات کے تحت گرفتار ہوئے، جن میں 341 سرکاری ملازمین شامل تھے۔ رشوت لیتے ہوئے گرفتار ہونے والوں میں ملتان 57 کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، گوجرانوالہ 52، ڈیرہ غازی خان 39، راولپنڈی 37، لاہور ریجن بی 30، بہاولپور 29، فیصل آباد 26، سرگودھا 25 اور ساہیوال 22 گرفتاریوں کے ساتھ نمایاں رہے۔ دوسری جانب انکوائریوں کے بعد گرفتاریوں میں گوجرانوالہ 47، بہاولپور 46، ملتان 40 اور فیصل آباد 38 کے ساتھ سرفہرست رہے۔ یہ اعداد کسی اپوزیشن جماعت کے الزامات نہیں بلکہ صوبائی حکومت کے اپنے ادارے کا ریکارڈ ہیں، اور ان کی جغرافیائی تقسیم بتاتی ہے کہ مسئلہ کسی ایک ضلع تک محدود نہیں۔

5 ستمبر کو سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق 54 افسران و اہلکار معطل، برطرف، گرفتار یا مقدمات کی زد میں آئے، جبکہ محکمہ خوراک نے 14 فوڈ کنٹرولرز کے خلاف کارروائی شروع کی۔ اگلے ہی روز اینٹی کرپشن نے 12 مزید گرفتاریاں کیں، جن میں ایکسائز ویہاڑی کے طاہر بھٹی، ڈیرہ غازی خان کے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کے کمپیوٹر آپریٹر ساجد، جھنگ کے تحصیل آفس کے ریڈر محمد سلیم اور لاہور میں پٹواری کے منشی مبین اختر شامل تھے۔ اسی فہرست میں تین فرنٹ مین بھی تھے، جو بتاتے ہیں کہ رشوت محض انفرادی لالچ نہیں بلکہ ثالثوں پر کھڑا ایک غیر رسمی نظام ہے؛ ایک منشی گرفتار ہوتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔

اگست 2026 کے آخر میں ساہیوال کے سب انسپکٹر عبدالسلام، فیصل آباد کے اے ایس آئی محمد عرفان، بہاولپور کے تحصیلدار یاسین شاکر سمیت درجنوں اہلکار گرفتار ہوئے۔ اسی دوران ڈیرہ غازی خان میں ستھرا پنجاب کے چیف فنانس آفیسر محمد حبیب، آپریشنل مینیجر محمد حسنین اور تحصیل مینیجر عمر فاروق پر 18 کروڑ 84 لاکھ 50 ہزار روپے کے مبینہ نقصان کا الزام لگا۔ یہ تمام الزامات تاحال عدالتی فیصلوں کے منتظر ہیں۔

10 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق اینٹی کرپشن گوجرانوالہ نے سیالکوٹ میں محکمہ سوشل ویلفیئر کے گریڈ 18 کے افسر شریف گھمن کو اپنے ادارہ کے ہی ایک ملازم سے ٹرانسفر رکوانے کے عوض 15 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے ٹریپ ریڈ میں گرفتار کیا۔ نشان زدہ رقم برآمد ہوئی اور مقدمہ درج کیا گیا۔ اسی طرح متعدد کیسز فائلوں میں دبے ہوئے ہیں اور معمولی کیسز سے نیب انکوائریوں تک متعدد معاملات و کیسز ریکارڈ رومز میں گرد آلود پڑے ہیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ زیر تحقیق معاملات کی بنیاد پر پورے محکمے کو مطعون نہ کیا جائے، اور محکمے کی قیادت، یعنی صوبائ وزیر سہیل شوکت بٹ اور صوبائ سیکرٹری سائرہ عمر کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے لیکن سوشل ویلفیئر و بیت المال بیواؤں، معذور افراد، یتیموں اور مستحقین کی امداد، بحالی مراکز اور ویمن پروٹیکشن اتھارٹی جیسے حساس شعبے چلاتا ہے، جہاں شکایت کنندہ سب سے کم طاقتور ہوتا ہے۔ ایسے محکمے میں کرپشن کی شکایات پر کاروائ کا نہ ہونا اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان ہے اور اگر صوبہ میں کرپشن کے سوالات پر صوبہ کی چیف ایکزیکٹو کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کسی ادارہ میں کرپشن کے ہوشربا انکشافات پر ادارہ کے کرتا دھرتا ذمہ داران کو کلین چٹ دے دی جائے۔

اسی تناظر میں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ داخلہ کا حالیہ فیصلہ قابلِ غور ہے۔ کمیٹی نے بچوں سے بھیک منگوانے پر تین ماہ سے تین سال قید کی سزا اور تحفظ کی عمر 14 سے 16 سال کرنے کا بل منظور کیا ہے، اور ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر و بیت المال کو انسدادِ گداگری کا کنٹرولر بنانے کی تجویز دی ہے، جو بحالی مراکز کے معائنے، مرکزی ڈیٹا بیس اور ایس او پیز کی نگرانی کرے گا۔ اختیارات بڑھیں تو آزاد آڈٹ اور شفاف ریکارڈ بھی لازم ہے، ورنہ حراست اور بحالی جیسے معاملات میں بدعنوانی کی گنجائش بڑھ جاتی ہے۔

اب کارروائی اور نتیجے کے درمیان فاصلہ دیکھیے۔ نومبر 2025 میں اینٹی کرپشن کے پہلے ڈیجیٹل ڈیٹا بینک کی تفصیل شائع کی گئ تھی، جس کے مطابق فروری 2023 سے ستمبر 2025 تک 61,007 شکایات آئیں، 27,996 انکوائریاں شروع ہوئیں (یعنی تقریباً آدھی) جن میں سے 15,716 مکمل ہوئیں، یعنی تقریباً 56 فیصد۔ ان سے 3,686 مقدمات درج ہوئے، جو شکایات کا تقریباً 6 فیصد بنتا ہے، اور 1,954 چالان عدالتوں میں جمع ہوئے، یعنی درج مقدمات کا تقریباً 53 فیصد۔ ان اعدادوشمار میں سب سے بڑا خلا یہ ہے کہ سزاؤں اور ریکوری کا کوئی ذکر نہیں۔ گرفتاری کا گراف خبر تو بن جاتا ہے، لیکن نظام کی تبدیلی کا ثبوت اس وقت بنتا ہے جب سزا ہو اور لوٹی گئی رقم خزانے میں واپس آئے۔ کرپشن کرنے والا نشان عبرت بنے اور درست حقائق تمام دنیا کے سامنے منظر عام پر آئیں تاکہ کسی کی کرپشن و بدعنوانی کی جرأت نہ ہو سکے۔ جزا اور سزا کا تاریخی تصور بھی اسی لیے موجود ہے تاکہ تدارک ممکن ہو سکے۔

وزیراعلیٰ نے 17 ستمبر کو ملتان میں کہا کہ چند روز میں کرپشن میں ملوث 600 پولیس افسران گرفتار کر کے برطرف کیے گئے۔ اینٹی کرپشن کی 600 سے زائد گرفتاریاں الگ معاملہ ہیں، جن میں مختلف محکموں کے لوگ شامل ہیں۔ دونوں کو ایک سمجھنا درست نہیں ہے اور پنجاب حکومت کی جانب سے پولیس کا الگ مصدقہ ریکارڈ جاری کرنا ابھی باقی ہے جس کے تناظر میں زمینی حقائق کو الگ نوعیت سے سمجھا جا سکے گا۔

پولیس کے نظام کی اصل خرابی یکم اکتوبر کی ڈان کی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آئی۔ اس کے مطابق گرفتاریوں کے بعد لاہور کا تفتیشی نظام تقریباً 50 فیصد سست ہو گیا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر کے حوالے سے بتایا گیا کہ جنوری سے لاہور کے 84 تھانوں میں تقریباً ایک لاکھ 65 ہزار مقدمات درج ہوئے، جبکہ تفتیشی اخراجات کے لیے صرف چار کروڑ روپے ملے، جو تقریباً 242 روپے فی مقدمہ بنتا ہے۔ شہر کی سالانہ ضرورت تقریباً ایک ارب روپے بتائی گئی۔ رپورٹ میں یہ الزام بھی تھا کہ تفتیشی افسران ایندھن وغیرہ کے نام پر رقم لیتے ہیں، اور بعض پراسیکیوشن اہلکار فائل کے اعتراضات دور کرنے کے لیے پانچ سے پچاس ہزار روپے مانگتے ہیں۔ یہ ثابت شدہ حقیقت نہیں، مگر انتظامی سبق واضح ہے: جب ریاست تفتیش کا خرچ نہ دے تو تفتیشی افسر شکایت کنندہ کی جیب دیکھتا ہے۔ رشوت کو جرم قرار دینا کافی نہیں، اس کی معاشی وجہ بھی ختم کرنا ہوگی۔
بڑے مالی معاملات میں اصل امتحان خریداری اور ادائیگی کے ضابطوں کا ہے۔ 4 نومبر کو وزیراعلیٰ نے خانیوال میں اکبر بازار کی بیوٹیفکیشن اسکیم میں مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم دیا اور سابق ڈپٹی کمشنر کو بھی انکوائری میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔ ٹھیکیدار ایڈوانس ادائیگی لیکر فرار ہو گیا اور منصوبہ ادھورا رہا، اس کی گرفتاری اور رقم کی ریکوری کا حکم بھی دیا گیا۔ ابھی انکوائری کا مرحلہ ہے، کسی کو قصوروار ٹھہرانا قبل از وقت ہوگا، مگر سوال واضح ہے کہ ایڈوانس کس ضابطے کے تحت اور کس کی منظوری سے جاری ہوا۔کلیئر رولز کے باوجود یہ کس کی نیگلیجنس قرار دی جائے گی؟

اس لیے گرفتاریوں کے ساتھ چند سوالوں کے جواب بھی عوام کے سامنے آنے چاہییں۔ گرفتار افراد میں سے کتنوں کے چالان عدالت پہنچے؟ کتنوں کو سزا ہوئی؟ سرکاری خزانے میں کتنی رقم واپس آئی؟ اور کیا پٹواری اور کلرک کی طرح ٹھیکوں اور بڑی خریداریوں میں بااثر افسران اور سرپرستوں تک بھی وہی رفتار پہنچ رہی ہے؟ زمین کے ریکارڈ کا ڈیجیٹل نظام، ای پروکیورمنٹ، تفتیشی اخراجات کی شفاف فراہمی اور سوشل ویلفیئر جیسے محکموں کا آزاد سوشل آڈٹ وہ اقدامات ہیں جو رشوت کی طلب ہی کم کرتے ہیں۔
ٹریپ ریڈ بیماری کی علامت پکڑتی ہے، علاج نہیں کرتی۔ زیرو ٹالرنس کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کتنے اہلکار پکڑے گئے، بلکہ یہ ہے کہ ایک عام شہری، چاہے وہ تھانے میں ہو، تحصیل میں یا سوشل ویلفیئر کے دفتر میں، بغیر مٹھی گرم کیے اپنا جائز کام کروا پاتا ہے یا نہیں۔ جس دن یہ سوال “ہاں” میں بدلا، اسی دن کرپشن سے پاک پنجاب کا دعویٰ تقریر سے نکل کر شہری کے تجربے میں داخل ہوگا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا