اسلام آباد :اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں ریلیف دے دیا۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سزا کے خلاف اپیل عید کی تعطیلات کے بعد سماعت کے لیے مقرر کی جائے گی۔کیونکہ یہ کیس چند روز میں مکمل ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ ہم توشہ خانہ کیس پر آج سماعت کے اگلے ہی دن اپیل سماعت کے لئے مقرر نہیں کرسکتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے دلائل شروع ہونے ہیں اور انہیں نہیں معلوم کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ لہٰذا توشہ خانہ کیس عید کے بعد تک ملتوی کیا جا رہا ہے۔ یکم فروری کو ان کی غیر قانونی شادی سے متعلق معاملے میں جوڑے کو سات سات سال قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ اس سے قبل 30 جنوری کو عدالت نے عمران خان اور پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
یہ تمام فیصلے 8 فروری کے عام انتخابات سے چند دن قبل عمران خان کے خلاف آئے تھے۔
نیب نے 19 دسمبر 2023 کو سابق وزیراعظم اور سابق خاتون اول کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس دائر کیا تھا جس میں انہوں نے سعودی ولی عہد کی جانب سے تحفے میں دیے گئے گریف جیولری سیٹ کو اپنے پاس رکھا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے مناسب تشخیص کے بغیر تحفے کو برقرار رکھا۔اس تحفے کی اطلاع ڈپٹی ملٹری سکریٹری نے توشہ خانہ کو دی تھی لیکن شفاف تشخیص کے لئے جمع نہیں کرایا گیا تھا۔ ریفرنس کے مطابق بشریٰ نے ملزم عمران خان کے ساتھ مل کر تحفے کو برقرار رکھنے سے قبل جمع نہ کروا کر توشہ خانہ طریقہ کار کی شق 1 کی خلاف ورزی کی۔
ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دونوں ملزمان نے ملی بھگت سے کارروائی کرتے ہوئے سید انعام اللہ شاہ (سابق پی ایس/ کنٹرولر برائے عمران خان/ وزیراعظم آفس) کے ذریعے نجی تشخیص کار صہیب عباسی پر غیر ضروری اثر و رسوخ کا استعمال کیا اور اپنی پسند کے گریف جیولری سیٹ کی تشخیص کو غیر قانونی طور پر کم اہمیت دی اور 18 روپے کی کم قیمت کی بنیاد پر 9.031 ملین روپے (تقریبا) کی معمولی ادائیگی پر اسے غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھا۔ شواہد کی روشنی میں ریفرنس میں ثابت کیا گیا کہ عباسی، نجی تشخیص کار اور سرکاری تشخیص کار کی جانب سے کیے گئے جائزے کو انتہائی کم اہمیت دی گئی۔





