ایران، اسرائیل کا ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان

0
26

۔

تہران: ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں فی الحال معطل کر دی گئی ہیں۔ تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کا زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ اقدامات مظلوم لبنانی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیے گئے۔ بیان کے مطابق ایران اپنی قومی سلامتی اور اتحادیوں کے تحفظ کے حوالے سے کسی بھی خطرے کو نظر انداز نہیں کرے گا۔

دوسری جانب اسرائیل نے امریکا کی درخواست پر ایران کے خلاف فضائی حملے عارضی طور پر روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم جنوبی لبنان میں جاری عسکری کارروائیوں کے حوالے سے اسرائیلی مؤقف میں کوئی بڑی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بیان میں کہا کہ قومی سلامتی اور عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران میدان چھوڑے گا نہ ہی سفارتی مذاکرات سے پیچھے ہٹے گا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں طاقت اور مذاکرات دونوں پہلوؤں کو متوازن انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مزید حملوں سے گریز کریں اور کشیدگی میں اضافے سے بچیں۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی اور ممکنہ امن معاہدے کے لیے رابطے جاری ہیں، تاہم حتمی پیش رفت کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی تمام متعلقہ فریقوں سے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔ مبصرین کے مطابق موجودہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے تاہم صورتحال بدستور نازک ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا