ججز خط کمیشن ،سپریم کورٹ کا از خود نوٹس،سابق چیف جسٹس جیلانی کا بیک آوٹ

0
196

اسلام آباد: سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے وزیراعظم شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی جانب سے عدالتی معاملات میں انٹیلی جنس مداخلت کے الزامات کی تحقیقات کے لیے قائم ایک رکنی انکوائری کمیشن کی سربراہی سے دستبرداری کا اعلان کردیا ہے سپریم کورٹ کی جانب سے ازخود نوٹس لیے جانے کے چند منٹ بعد جیلانی نے انکوائری کمیشن کی سربراہی سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ خط ججوں کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل اور چیف جسٹس کو لکھا گیا تھا اس لیے ان کے لیے اس معاملے کی تحقیقات کرنا عدالتی جواز کی خلاف ورزی ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس کسی آئینی ادارے یعنی سپریم جوڈیشل کونسل یا خود سپریم کورٹ آف پاکستان کے دائرہ اختیار میں آ سکتا ہے۔جسٹس (ر) جیلانی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ “انکوائری کے لئے ریفرنس کی شرائط” اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی طرف سے اپنے خط میں تحقیقات کے لئے کہے گئے موضوع سے متعلق نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خط کے آخر میں ججوں نے اس معاملے پر “ادارہ جاتی مشاورت” کی درخواست کی تھی۔

سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ خط آئین کے آرٹیکل 209 کے دائرے میں نہیں آتا لیکن چیف جسٹس آف پاکستان ایک معاون ہونے کے ناطے ادارہ جاتی سطح پر خط میں اٹھائے گئے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔واضع رہے کہ 30 مارچ کو وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے الزامات پر انکوائری کمیشن بنانے کی منظوری دی تھی اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی کو اس کا سربراہ مقرر کیا تھا۔کمیشن کو ایک خط میں ججوں کی جانب سے لگائی گئی شکائت کی تحقیقات کا کام سونپا گیا تھا۔ اس کے بعد کابینہ ارکان نے کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کی بھی منظوری دے دی تھی

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا