نبی کریم ؐ کی حرمت پر آنچ برداشت نہیں کی جائے گی،پارلیمنٹ

0
210

قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کی جانب سے مبارک احمد ثانی نظرثانی کیس میں دیے گئے فیصلے پر گرما گرم بحث ہوئی ہے، اور ارکان اسمبلی نے کہا ہے کہ عدالتوں کو آئین کو ری رائٹ کرنے کا اختیار نہیں، نبی کریم ؐ کی حرمت پر آنچ برداشت نہیں کی جائے گی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ عدالتوں کو آئین کی تشریح کا اختیار ہے لیکن آئین کو دوبارہ لکھنے کا اختیار نہیں، نبی کریم ﷺ کی حرمت پر آنچ آئے گی تو آواز بھی اٹھائیں گے اور ہاتھ بھی اٹھائیں گے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 295 سی نبی کریم ﷺ کی ذات کے حوالے سے ہے۔

واضح رہے کہ 24 جولائی کو سپریم کورٹ نے مبارک احمد ثانی کیس میں نظرثانی درخواستیں جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے کہا تھا کہ احمدیوں کے حوالے سے وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ فیصلوں سے انحراف نہیں ہو سکتا۔

وزیر قانون نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آقا ﷺ کی حرمت کے لیے ہر شخص مرمٹنے کو تیار ہے، اس معاملے کو لا اینڈ جسٹس کمیٹی کو بھیجنا چاہتے ہیں تو اس کو ضرور دیکھیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ کسی کو پاکستان کے منصف اعلیٰ کو قتل کرنے کا فتویٰ دینے کا اختیار نہیں، اس طرح کے بیانات پر ریاست کی زیرو ٹالرینس پالیسی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ تمام جماعتیں ساتھ بیٹھ جائیں اس پر بات کر لیتے ہیں، پارلیمان میں ہر بات شریعت، آئین اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ ہمارا ملک آئین و قانون کے تابع ہے، کوشش ہونی چاہیے ہماری طرف سے کوئی ایسی بات نہ ہو کہ گستاخوں کو موقع ملے۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی حنیف عباسی نے کہاکہ اس فیصلے پر فی الفور پارلیمانی کمیٹی بنائیں اور علما کرام کو بلائیں، اس کا فوری حل نکالنا ضروری ہے کیونکہ لوگوں کے دل دکھے ہوئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ابہام پیدا ہوا، لیکن کسی بھی صورت ریاست اور حکومت کے علاوہ کسی کو سزا دینے کا اختیار نہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت اور سپریم کورٹ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، اس معاملے پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انسانی حقوق کے نام پر مغرب سے یہ فتنہ پھیلایا جاتا ہے، یہ مرتد وہاں جاکر کہتے ہیں پاکستان میں ہم پر بہت ظلم ہورہا ہے، یہ ہمارا ٹائٹل استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ایک ایسی کمیٹی بنائی جائے جو اس قسم کے فیصلے دینے والوں کی سزا تجویز کرے، آئین کے آرٹیکل کو اگر ری رائٹ کیا گیا ہے تو کیا وہ آرٹیکل 6 کے زمرے میں نہیں آتا، ہمارے ایمان پر حملہ مت کیا جائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا