بینچ کی تشکیل اور سپریم کورٹ میں تقسیم اختیارات کی جنگ ہے

0
248

اسلام آباد(نواز)سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ کے یہ ریمارکس مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آئے جس کا مرکزی نقطہ عدالت میں بینچوں کی تشکیل اور مقدمات ہیں۔لیکن بظاہر معمول کی یہ سماعت سابق ججوں کے مطابق حالیہ سپریم کورٹ کے اندر اختیارات کا غیر معمولی تنازع ہے جس کا آغاز 26ویں آئینی ترمیم اور آئینی مقدمات سننے کے لیے بینچ کی تشکیل سے ہوا۔سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس فیصل عرب کے مطابق ’پاکستان کی سب سے بڑی عدالت، یعنی سپریم کورٹ میں اس وقت ججز کے درمیان جو تقسیم موجود ہے وہ کسی معاملے پر اختلاف رائے نہیں بلکہ اختیارات کی جنگ کا معاملہ ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔‘

واضح رہے کہ سربراہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین خان نامزد کیے گئے تھے۔26ویں آئینی ترمیم کے بعد جب عدالت عظمیٰ میں سنیارٹی میں نمبر تین پر موجود جسٹس یحییٰ آفریدی کا چناو¿ ملک کے نئے چیف جسٹس کے طور پر ہوا تو آئینی بینچ کے سربراہ کی نامزدگی نے عدلیہ میں تقسیم کی باتوں کو مزید ہوا دی اور حالیہ مقدمے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ تنازع ختم نہیں ہوا۔سپریم کورٹ میں تقسیم کیوں پیدا ہوئی اور یہ عدالتی معاملات کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟ ان سوالات کا جواب جاننے سے قبل یہ جانتے ہیں کہ حالیہ تنازع ایک نوٹیفیکیشن سے کیسے شروع ہوا؟یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ٹیکس قوانین سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کسٹم حکام نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جسے 13 جنوری کو جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی کی سماعت کے لیے مقرر کیا گیا۔ اس بینچ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عرفان سعادت شامل تھے۔تاہم ابتدائی سماعت میں عدالت نے ریمارکس دیے کہ پہلے اس بات کا تعین کرنا ہوگا کہ یہ معامہ آئینی بینچ سنے گا یا دوسرا بینچ جس کے بعد سماعت ملتوی کر دی گئی۔لیکن 20 جنوری کے نوٹیفیکیشن کے تحت یہ اپیل جسٹس منصور علی شاہ کے بینچ سے ڈی لسٹ کر دی گئی اور اسے آئینی بینچ کو بھجوا دیا گیا جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے اعتراض اٹھایا کہ کیسے اپیل کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیا گیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا