ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران نے کئی ممالک میں اسلحے کی تیاری کی تنصیبات قائم کر رکھی ہیں لیکن فی الحال ان کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے۔ناصر زادہ نے کہا، “ہم نے کچھ ممالک میں ہتھیاروں کی فیکٹریاں بنائی ہیں،
لیکن فی الحال ہم یہ اعلان نہیں کریں گےکہ کون سی فیکٹریاں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے گزشتہ ایک سال میں نئے وار ہیڈز کا تجربہ کیا ہے جو جدید اور قابل استعمال ہیں۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی بحریہ نے جمعرات کو بڑے پیمانےپر مشقوں کے دوران خلیج عمان اور شمالی بحر ہند میں زمینی اہداف پر کروزمیزائلوں کا تجربہ کیا۔ یہ مشقیں ایک ماہ قبل بحیرہ کیسپین میں ایران اورروس کی مشترکہ مشقوں کے بعد کی گئی ہیں جنہیں کیساریکس 2025 کے نام سےجانا جاتا ہے۔سنہ 1979 کے بعد سے امریکی پابندیوں نے ایران کی جدیدہتھیاروں تک رسائی کو محدود کر دیا ہے
، جس کی وجہ سے مقامی ڈیزائن وں اورپرانے نظاموں کو اپنانے پر انحصار بڑھ رہا ہے۔قبل ازیں ناصر زادہ نے کہاتھا کہ اسرائیل کا دفاعی نظام جس میں امریکی ساختہ تھاڈ اور پیٹریاٹ بیٹریاں، آئرن ڈوم اور ایرو شامل ہیں، زیادہ تر میزائلوں کو روکنے میںناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا، “ابتدائی دنوں میں، ہمارے تقریبا 40 فیصدمیزائل وں کو روکا گیا تھا، لیکن جنگ کے اختتام تک، 90 فیصد اپنے اہدافکو نشانہ بنا رہے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا تجربہ بڑھ رہا ہےجبکہ دوسری طرف کی دفاعی طاقت کم ہو رہی ہے۔






