گجرات کے علاقے شہبازپور میں دریائے چناب کا بند ٹوٹ گیا، جس کے باعث پانی آبادی میں داخل ہوگیا۔ سیلاب کے دوران 3 بچے ڈوب گئے، جن میں سے دو کی لاشیں مقامی افراد نے نکال لیں اور تیسرے کو بچا لیا گیا۔ علاقے میں تقریباً 100 افراد بدستور سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
پنجاب کے 3 دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کے نتیجے میں قریبی آبادیاں اور فصلیں زیر آب آگئیں۔ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب آیا، جس سے دریا سڑکوں پر آگئے اور کئی بستیاں ڈوب گئیں۔ وزیر آباد کے گلی محلے اور بازار زیر آب آگئے، جبکہ پانی دکانوں اور مکانات میں بھی داخل ہوا۔ ہیڈ قادرآباد پر پانی کا دباؤ کم کرنے کے لیے منڈی بہاؤالدین اور علی پور چھٹہ پر دو شگاف ڈال دیے گئے، اور لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ میں فوج طلب کرلی گئی۔ وزیراعظم نے گجرات، سیالکوٹ اور لاہور میں ممکنہ اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے فوری انتظامی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر 70 سال اور شاہدرہ کے مقام پر 37 سال بعد پانی آیا ہے۔





