ٹرمپ سے ناراضگی، مودی فون نہیں اٹھا رہے،جرمن اخبار

0
123


جرمنی کے روزنامہ فرینکفرٹ الگمائنے زیتنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فون کالوں کا جواب نہیں دے رہے۔ شائع کردہ خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے چار دفعہ مودی سے رابطے کی کوشش کی لیکن مودی نے ان کی فون کالیں قبول نہیں کیں۔ یہ روّیہ، روسی تیل کی برآمد بند کروانے کے لئے امریکی دباو کے مقابل ، مودی کے “غصے” اور “احتیاط” کا اظہار ہے۔مذکورہ ٹیلی فون کالیں تجارتی کشیدگی میں شدید اضافے کے پس منظر میں کی گئی ہیں۔

۔اسی دوران، نئی دہلی نے رعایتی نرخوں پر روسی تیل کی خریداری میں بھی اضافہ کر دیا ہے جو واشنگٹن کی ناراضگی میں مزید اضافے کا سبب بنا ہے۔ایف اے زیڈ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی کالیں قبول نہ کرنا مودی کا سوچا سمجھا قدم ہے جس کا مقصد ٹرمپ کے مخصوص مذاکراتی انداز سے بچنا ہے۔ٹرمپ کسی سرکاری معاہدے کے نفاذ سے قبل عوامی سطح پر معاہدہ طے پانے کے دعوے کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ویتنام اس کی ایک مثال ہے لہٰذا مودی اس جال میں نہیں پھنسنا چاہتے

۔سیاسی محقق ‘ مارک فریزر’ نے کہا ہےکہ امریکہ کی، چین کے خلاف بھارت سے مدد کی توقع پر مبنی، انڈو۔پیسفک حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے۔فریزر کے مطابق “بھارت نے کبھی بھی چین کے مقابل امریکہ کے ساتھ کھڑے ہونے کا ارادہ نہیں کیا۔علاوہ ازیں دہلی کے قریب ٹرمپ خاندان کے لگژری ٹاور منصوبے پر تنقید یں، ٹرمپ کا بھارت اورپاکستان کے درمیان جنگ بندی کا سہرا اپنے سر لینا اور اوول آفس میں پاکستان کے آرمی چیف کی میزبانی ایسے پہلو ہیں جنہوں نے نئی دہلی کی اشتعال انگیزی میں واضح اضافہ کیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا