اسلام آباد(نعمان حیدر)وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ریگولیٹری باڈی میں کروڑوں روپے کی غیرقانونی ادائیگیوں کاانکشاف ہواہے۔آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق چئیرپرسن پیرانے وفاقی حکومت کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئےپے پیکج سے زیادہ 18,180,529 روپے غیر قانونی طور پر قومی خزانے سے نکلوائے۔قوانین کیمطابق اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز چیئرمین اور ممبر اکیڈمک اور ممبر رجسٹریشن کی تعیناتی،اہلیت اورپے پیکج وفاقی حکومت نے طے کرنا ہوتا ہے گی۔وفاقی وزارت تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت کے نوٹیفکیشن نمبر F.1-21/2014 Coord/PEIRAجومورخہ 29-03-2023کوجاری ہواجو SRO. 107 under Rule 7 2015کے تحت ایم۔پی۔ٹوسکیل کے لئے تین سال کے لئے کیاگیاجس میں مزیدتوسیع ممکن ہے۔ایم پی اسکیل کے پے پیکج کا تعین وفاقی حکومت نے کیا ہے
ساڑھے تین کروڑ روپے ہوشیاری
، جس میں بنیادی تنخواہ، ہاؤس رینٹ الاؤنس، یوٹیلیٹی الاؤنس اور مونیٹائزیشن الاؤنس شامل ہیں۔ تاہم چیئرپرسن نے مالی سال 2023-24 کے دوران ایم پی۔ٹو اسکیل کے پے پیکج کے مطابق 3,665,944 روپے وصول کرنے کے بجائے مختلف غیر متعلقہ مدات کے تحت بلاجواز کل رقم 21,846,473 روپے وصول کی۔ آڈٹ نے مشاہدہ کیا کہ چیئرپرسن نے وفاقی حکومت کی جانب سے مقررہ ایم پی ۔ٹواسکیل کے پے پیکج سے زیادہ18,180,529 روپے غیر قانونی طور پر وصول کیے۔ آڈٹ کی رائے ہےکہ چیئرپرسن کی جانب سے وصول کی گئی یہ رقم غیر قانونی اور غیر مجاز ہے۔ آڈٹ کی سفارش ہے کہ چیئرپرسن کی جانب سے کی گئی غیر قانونی وصولی فوری طور پر واپس لے کر وفاقی خزانے میں جمع کرائی جائے اور اس طرح کی غیر قانونی وصولیاں فوراً بند کی جائیں۔ ڈی اے سی نے اپنے اجلاس مورخہ 03-12-2024 میں ہدایت دی کہ چیئرپرسن کے ایم پی ۔ٹواسکیل زائد تمام اضافی الاؤنسز فوراً ختم کیے جائیں
وفاقی حکومت کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی
اور آڈٹ کے ساتھ مصالحت کے مطابق وصولی عمل میں لائی جائے۔اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز چیئرمین اور ممبران اکیڈمک و رجسٹریشن کی تعیناتی و اہلیت رولز 2015 کے رول 10 کے تحت چیئرمین اور ممبران کا پے پیکج وفاقی حکومت نے طے کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، 26-02-2024 کو پیرا کی انتظامیہ چیئرپرسن و دو ممبران نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ چیئرپرسن، ممبران اور تمام ملازمین کو ہاؤس رینٹ، میڈیکل، یوٹیلیٹی، مہنگائی الاؤنس، اعزازیہ، رخصت کی نقدی اور دیگر تمام حکومتی الاؤنسز فراہم کیے جائیں۔اس فیصلے کے نتیجے میں چیئرپرسن اور ممبران کو وفاقی حکومت کے طے کردہ ایم پی اسکیل کے بجائے غیر مجاز طور پر اضافی الاؤنسز اور مراعات دی گئیں، جس سے 16.735 ملین روپے کی بے قاعدگی واقع ہوئی۔
آڈٹ ھکام نے بھانڈا پھوڑ دیا
اس غیرقانونی رقم کوممبراکیڈیمکس امتیازقریشی اورممبررجسٹریشن وقاص کیانی نے وصول کیا۔آڈٹ نے مشاہدہ کیا کہ پیرا کی انتظامیہ نے وفاقی حکومت کے ملازمین کے مقابلے میں زیادہ شرح پر تنخواہیں اور الاؤنسز ادا کیے،دستاویزات کیمطابق ہاؤس رینٹ الاؤنس چلتی بنیادی تنخواہ کا 130% ادا کیا گیا،میڈیکل الاؤنس چلتی بنیادی تنخواہ کا 50% ادا کیا گیا۔ مہنگائی الاؤنس چلتی بنیادی تنخواہ کا 20% ادا کیا گیا۔ اعزازیہ آٹھ بنیادی تنخواہوں کے برابر ادا کیا گیا،رخصت نقدی 1.5بنیادی تنخواہوں کے برابراداکی گئی۔یوٹیلیٹی الاونس بیس فیصدجبکہ دوبنیادی تنخواہوں کے برابرعیدبونس اداکئے گئے۔دیگر تمام حکومتی الاؤنسز (جیسے کنوینس، ایڈہاک ریلیف الاؤنس، ڈسپیئرٹی ریڈکشن الاؤنس وغیرہ) وفاقی حکومت کے اعلان کے ساتھ ہی فراہم کیے گئے۔آڈٹ کی رائے ہے کہ ممبر اکیڈمکس اور ممبر رجسٹریشن کو حکومتی شرح سے زیادہ تنخواہیں اور الاؤنسز دینا غیر مجاز اور بے قاعدہ ہے، کیونکہ یہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز چیئرمین اور ممبر و ممبر رولز 2015 کے رول 10 کی کھلی خلاف ورزی ہے
پیرا ایکٹ کے رول دس نظر انداز
، جس میں واضح طور پر درج ہے کہ چیئرمین اور ممبران کا پے پیکج وفاقی حکومت طے کرے گی۔انتظامیہ نے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ تمام الاؤنسزایکٹ اور فنانشل رولز کے مطابق ادا کیے گئے ہیں، جن میں یہ ذکر موجود ہے کہ اتھارٹی FBISE کا پے پیکج اپنا سکتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ فنانشل رولز وزارتِ خزانہ اور لائ اینڈ جسٹس ڈویژن کی توثیق کے بعد نوٹیفائی کیے گئے تھے۔ PEIRA-ICTایکٹ کے رول 10 کے مطابق چیئرمین اور ممبران کا پے پیکج صرف وفاقی حکومت طے کر سکتی ہے۔ڈی اے سی نے اپنے اجلاس مورخہ 03-12-2024 میں انتظامیہ کو ہدایت دی کہ چیئرپرسن اور ممبران کو دیے گئے اضافی الاؤنسز فوراً بند کیے جائیں اور وصولی یقینی بنائی جائے۔ مزید یہ کہ پیرا کے فنانشل رولز پر وزارت خزانہ کی توثیق آڈٹ کو جانچ کے لیے فراہم کی جائے۔آڈٹ کی سفارش ہے کہ معاملے کی انکوائری کی جائے اور چیئرپرسن و ممبران سے تیز تر بنیادوں پر غیر قانونی ادائیگیوں کی ریکوری کی جائے۔ مزید یہ کہ ملازمین کے پے اسٹرکچر کے حوالے سے وزارت خزانہ کی باقاعدہ اجازت حاصل کر کے آڈٹ کو فراہم کی جائے۔






