پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھا دیا

0
155

پاکستان نے افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملوں اور دراندازی کے شواہد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کر دیے ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق پاکستان نے بتایا کہ افغانستان میں 60 سے زائد عسکریت پسند کیمپ قائم ہیں جو پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان نے افغان طالبان کو سرحد پار حملوں کو فعال بنانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ یہ دہشت گرد کیمپ نہتے شہریوں اور سکیورٹی اداروں پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس دہشت گرد گروہوں کی مشترکہ مشقوں، باہمی تعاون، غیر قانونی ہتھیاروں کی تجارت اور منظم دہشت گردی کے حملوں کے ثبوت موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ داعش، القاعدہ، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سمیت کئی تنظیمیں افغان پناہ گاہوں سے کام کر رہی ہیں۔ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر 1267 پابندیوں کی کمیٹی کو بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو فہرست میں شامل کرنے کی درخواست بھی دی ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ سلامتی کونسل کو افغانستان سے دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کرنا ہوگی اور طالبان کو انسداد دہشت گردی کی اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی تقریباً 6 ہزار جنگجوؤں کے ساتھ افغان سرزمین پر سب سے بڑا دہشت گرد گروپ ہے، پاکستان نے متعدد بار ان کی دراندازی کی کوششیں ناکام بنائی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سے زیادہ کوئی ملک افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں نہیں اور پاکستان خطے و دنیا کے مفاد میں ایک پرامن اور خوشحال افغانستان چاہتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا