سپر ٹیکس کیس: آرٹیکل 10 اے کا ٹیکس سے کیا تعلق؟ سپریم کورٹ کے ریمارکس

0
206

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران دلچسپ ریمارکس سامنے آئے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ “آرٹیکل 10 اے فئیر ٹرائل کے بارے میں ہے، اس کا ٹیکس سے کیا تعلق ہے؟”

پانچ رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی۔ درخواست گزاران کے وکیل احمد سکھیرا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ونڈ فال پروفٹ پالیسی کی وجہ سے چند افراد فائدے میں ہیں جبکہ اکثریت نقصان اٹھا رہی ہے، اس صورتحال میں ٹیکس عائد کرنا درست نہیں۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ اگر پیٹرول کی قیمت 150 سے بڑھ کر 200 روپے ہو جائے تو کیا یہ ونڈ فال پروفٹ ہوگا؟ اسی طرح چینی کی قیمت 160 سے 170 ہو تو کیا پھر بھی یہ تصور ہوگا؟

دلائل کے دوران احمد سکھیرا نے کہا “سادگی بھی قیامت کی ادا ہوتی ہے” جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے طنزیہ ریمارکس دیے کہ “کہیں یہ آپ کی اپنی سادگی تو نہیں؟” اس پر کمرہ عدالت میں مسکراہٹیں بکھر گئیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا کہ ٹیکس نافذ کرنے کا طریقہ کار کیا ہے اور اس کیس میں ڈیو پراسس کی خلاف ورزی کہاں ہے؟ احمد سکھیرا نے مؤقف اپنایا کہ یہ انٹری 47 کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اسی دوران انہوں نے اپنی عمر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بچے بیرسٹر ہیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا: “آپ کی عمر کیا ہے؟” احمد سکھیرا نے جواب دیا: “57 سال۔” جس پر جسٹس مندوخیل نے مسکراتے ہوئے کہا: “57 سال کو آپ بوڑھا سمجھتے ہیں؟” اس بات پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

احمد سکھیرا نے کہا کہ ایک دن سب ختم ہو جائے گا مگر عدالتی فیصلہ تاریخ میں باقی رہے گا۔

کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا