اسرائیلی کنیسٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے پہلی خواندگی میں بل منظور کر لیا جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی۔ بل کو چار کے مقابلے میں ایک ووٹ سے منظور کیا گیا۔
یہ اقدام اسرائیلی قانونی اور سیاسی حلقوں میں تنازع کا باعث بن گیا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ کنیسٹ کی چھٹی کے دوران ووٹنگ غیر قانونی ہو سکتی ہے جبکہ اس پر مکمل بحث بھی نہیں ہوئی۔
وزیراعظم کے نمائندے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس قانون سے غزہ میں قید یرغمالیوں کی رہائی کی کوششیں متاثر ہوں گی۔ اس بل کو دائیں بازو کی جماعت اوٹزما یہودیت کی رکن نے پیش کیا۔
ماضی میں یہ بل مسترد ہو چکا تھا مگر قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے اسے دوبارہ لانے پر زور دیا۔ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نیتن یاہو کی ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔






