وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی تنقید پر ناخوش ہو گئی اور وزیراعظم شہباز شریف کو شکایت پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیپلز پارٹی نے واک آؤٹ کیا اور سینیٹ میں مریم نواز سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی اٹھایا۔ پارلیمنٹ کے باہر پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن نے کہا کہ کیا آپ اپنے چچا کی حکومت ختم کرنا چاہتی ہیں؟ ایوان میں اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت دی کہ سیاست میں لفظی جنگ چلتی رہتی ہے جبکہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنجاب کو بلاوجہ برا بھلا کہا جاتا ہے اور اگر وزیر اعلیٰ پنجاب جواب نہیں دیں گی تو کون دے گا؟
پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک مریم نواز معافی نہیں مانگتیں، وہ قانون سازی میں حصہ نہیں لیں گے اور وزیراعظم کی لندن سے واپسی پر ان کے سامنے تحفظات رکھیں گے۔ پی پی ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزرا کے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر بےجا تنقیدی بیانات بھی اجاگر کیے جائیں گے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پیپلز پارٹی سیلاب متاثرین کی امداد کے مطالبات وفاق سے کر رہی ہے اور پنجاب حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔






