وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر اصولی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھیجی گئی تھی جس کے مذاکرات نتیجہ خیز رہے۔ معاہدے کے مسودے پر دونوں اطراف غور کر رہی ہیں اور جلد اس پر دستخط کر دیے جائیں گے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہم ایک ایسی صورتحال سے بچ گئے ہیں جسے پاکستان کے بدخواہ بدامنی اور عدم استحکام کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے، یہ جیت پاکستان، آزاد کشمیر کے عوام اور جمہوریت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر امور کشمیر کی نگرانی میں ایک مستقل کمیٹی بنائی گئی ہے جو ہر پندرہ دن بعد اجلاس کرے گی اور مطالبات پر عمل درآمد کا جائزہ لے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق آئینی ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی۔ یہ معاملہ آئینی ہے، اس لیے جلد بازی سے گریز کیا جائے گا اور سب کو متفقہ فیصلہ قبول ہوگا۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے تین ارکان سے مذاکرات ہوئے ہیں جو اب اپنی کمیٹی سے مزید مشاورت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر کی حکومت کے حساب سے کابینہ کا حجم زیادہ ہے اور وزارتیں کم کرنے پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح، آزاد کشمیر کی ترقی اور وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق حکومت تیار ہے، امید ہے کہ مشاورت مکمل ہونے کے بعد معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔






