امریکہ کے سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی لیکن اولین ترجیح حماس کے پاس موجود قیدیوں کی رہائی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ حماس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز اور قیدیوں کی رہائی کے فریم ورک پر بنیادی طور پر اتفاق کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے ملاقاتیں جاری ہیں۔
مارکو روبیو نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد کیا اقدامات ہوں گے، اس کے حوالے سے بھی اصولی اور عمومی طور پر بات چیت ہو چکی ہے اور اس کے تمام تر عملی پہلوؤں پر مزید تفصیل پر کام کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مذاکرات کے دوران واضح ہو جائے گا کہ آیا حماس اس عمل کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔
امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے بتایا کہ اولین ترجیح جو جلد حاصل کی جا سکتی ہے وہ قیدیوں کی رہائی ہے، ممکنہ طور پر یہ تبادلہ اسرائیل کے انخلا کے بدلے ممکن ہوگا جہاں اسرائیلی فورسز اگست کے دوران غزہ میں تعینات تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد غزہ کے طویل مدتی مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنا بہت پیچیدہ ہوگا۔
روبھو نے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ اسرائیل کے پیچھے ہٹنے کے بعد کیا ہوگا، کیسے فلسطینی علاقوں میں ٹیکنوکریٹک عبوری قیادت تیار کی جائے جو حماس پر مبنی نہ ہو، اور کیسے ایسے گروپوں کو غیرمسلح کیا جائے جو اسرائیل کے خلاف حملے اور سرنگیں بناتے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ یہ پورا عمل بہت مشکل ہے مگر اس کے بغیر وہاں پائیدار امن ممکن نہیں ہوگا۔






