اسرائیل نے صمود فلوٹیلا کے مزید 29 ارکان کو رہا کردیا

0
137

اسرائیل نے صمود فلوٹیلا کے مزید 29 ارکان کو رہا کرتے ہوئے ملک بدر کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے بتایا کہ غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے صمود فلوٹیلا کے گرفتار شدہ ارکان میں سے مزید 29 افراد کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اس سے قبل گرفتار کیے گئے 450 میں سے 170 ارکان کو رہا کیا جا چکا ہے۔

متعدد رہائی پانے والے کارکنوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فوج نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور وکلا تک رسائی بھی نہیں دی گئی۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قانونی حقوق کا احترام کیا جا رہا ہے، تاہم چند افراد نے ملک بدری کے احکامات پر دستخط نہیں کیے جس کے باعث 72 گھنٹوں کی تاخیر ہوئی، لیکن جلد ہی ان کی واپسی ممکن ہو گی۔

قانونی ماہرین نے بتایا کہ صمود فلوٹیلا کے بعض ارکان پر بدتمیزی، جسمانی تشدد، ادویات دینے سے انکار اور دیگر طبی مشکلات کا سامنا کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں، یہاں تک کہ ایک مسلمان خاتون کو حجاب اتارنے پر بھی مجبور کیا گیا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل 43 کشتیوں کو غزہ پہنچنے سے پہلے روک کر رضاکاروں کو گرفتار کیا تھا۔ ان کشتیوں پر خوراک اور دوائیں موجود تھیں جو محصور فلسطینیوں تک پہنچائی جانی تھیں۔

اس فلوٹیلا میں دنیا بھر کے رضاکار شامل تھے، جن میں عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، اسپین کے شہر بارسلونا کی سابق میئر ادا کولو، یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن، پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت برازیل، ملائیشیا، فرانس اور دیگر ممالک کے کارکن شامل ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا