سلام آباد — وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں ہو رہی ہیں، مگر بعض لوگ ان کی کھل کر مذمت کرنے سے کتراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں، اس معاملے پر یک زبان ہو کر افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور سیاست کو ایک طرف رکھا جائے۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ انہوں نے کابل میں حکام سے بارہا بات کی اور مطالبہ کیا کہ پناہ گاہیں بند کی جائیں، تاہم خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے پر صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں واضح اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ ہمارے شہدا کے خاندانوں کے غم سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ 60 سے 70 لاکھ افغان پاکستان میں مقیم ہیں اور ان حلقوں کے ذریعے بعض لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک وفد کابل جائے اور وہاں حکمرانوں سے اس مسئلے پر براہِ راست تبادلۂ خیال کرے۔ وزیر دفاع نے زور دیا کہ جو بھی سیاسی اختلافات ہیں، انہیں اسی موضوع پر ملتوی رکھا جائے اور افواج اور شہریوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔






