امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن نوبل انعام حاصل کرنے کا خواب حقیقت نہ بن سکا اور سال 2025 کا نوبل امن انعام وینزویلا کی ماریہ کورینا مچاڈو نے اپنے نام کر لیا ہے۔
دلچسپ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سال امن انعام کے امیدواروں میں شامل تھے۔ انہیں مالٹا کے وزیرِ خارجہ ایان بورگ نے نامزد کیا تھا جن کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ نے بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔
نوبل کمیٹی کے مطابق طویل غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ انعام ان شخصیات کو دیا جائے جو جمہوریت، انسانی آزادی اور بنیادی حقوق کے لیے براہِ راست عملی جدوجہد میں مصروف رہی ہیں۔
اعلان سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر انہیں یہ انعام نہ دیا گیا تو یہ امریکا کے لیے بڑی توہین ہوگی۔ تاہم نتائج کے بعد اُن کی امیدیں دم توڑ گئیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نوبل کمیٹی نے واضح پیغام دیا ہے کہ امن کے قیام کے لیے صرف بیانات نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔ اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے حوالے سے طنزیہ تبصرے بھی سامنے آ رہے ہیں، جہاں صارفین کا کہنا ہے کہ امن انعام کے لیے صرف “پیس میکر” ہونا کافی نہیں، بلکہ کارکردگی بھی شرط ہے۔






