اسلام آباد: توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے دفعہ 342 کے تحت دئیے گئے جوابات منظرِعام پر آگئے ہیں۔
عمران خان نے مؤقف اختیار کیا کہ 2018 کی توشہ خانہ پالیسی کے مطابق تحفے کی صرف رپورٹ نہ کرنے پر کارروائی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ملٹری سیکرٹری نے ان کی اجازت سے تحفے رپورٹ کیے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ بلغاری سیٹ کی قیمت سرکاری رولز کے تحت 59 لاکھ روپے لگائی گئی تھی اور 29 لاکھ روپے ادا کر کے تحفہ قانونی طریقے سے اپنے پاس رکھا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ ایف آئی اے کا اس معاملے میں کوئی دائرہ اختیار نہیں بنتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انعام اللہ شاہ کو کبھی کسی افسر پر دباؤ ڈالنے کا نہیں کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر انعام اللہ شاہ نے انہیں فائدہ پہنچایا ہوتا تو انہیں 2021 میں برطرف نہ کیا جاتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انعام اللہ شاہ جہانگیر ترین کے گروپ سے تعلق رکھتا تھا۔
عمران خان نے کہا کہ 2023 کے توشہ خانہ مقدمات میں صہیب عباسی یا انعام اللہ شاہ نے کبھی کم قیمت لگوانے کا ذکر نہیں کیا تھا مگر اب بیانات تبدیل کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے نیب کی جانب سے اٹلی سے 7 کروڑ روپے کی قیمت لگوانے کو بھی غیرقانونی قرار دیا اور کہا کہ نیب ترمیم کے بعد ادارے کا اختیار ہی نہیں بنتا تھا۔
عمران خان کے مطابق چیئرمین نیب نے بھی صہیب عباسی کو وعدہ معاف گواہ بنا کر غیرقانونی اقدام کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک ان کے خلاف 300 کے قریب جھوٹے مقدمات بنائے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔






