سوڈان کے شہر الفاشر میں مسجد اور اسپتال پر حملے میں کم از کم 20 شہری ہلاک اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے۔
حملے میں حکومت مخالف نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) ملوث ہیں۔ اسپتال سعودی تعاون سے چلایا جا رہا تھا اور ہزاروں مریضوں کو علاج فراہم کر رہا تھا۔
اقوام متحدہ کے مطابق زچہ و بچہ وارڈ پر بھی حملہ کیا گیا، جس میں 12 مریض ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور طبی عملہ شامل ہیں۔
مسجد پر حملے میں بے گھر خاندان متاثر ہوئے اور 10 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔
یو این آفس برائے انسانی امور نے حملوں کی شدید مذمت کی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
یہ اسپتال پر ایک ہفتے کے دوران تیسرا حملہ ہے، جس سے صحت کی سہولیات شدید خطرے میں ہیں۔
الفاشر گزشتہ ایک سال سے محصور ہے اور حکومت مخالف فوجی دستے کی گولہ باری اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
سوڈان میں اپریل 2023 سے ملکی فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان خانہ جنگی جاری ہے۔
خانہ جنگی کے باعث 3 کروڑ سے زائد افراد امداد کے محتاج ہیں، جن میں 1 کروڑ 20 لاکھ افراد بے گھر اور 40 لاکھ لوگ ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
زغاوہ قبیلے کے درمیان داخلی کشیدگی کے باعث 7 اور 8 اکتوبر کو 250 سے زائد افراد مزید بے گھر ہوئے، جس سے انسانی بحران مزید پیچیدہ ہو گیا۔






