پاک افغان سرحد پر افغانستان کی بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاک فوج نے بھرپور اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 19 افغان چوکیاں اپنے کنٹرول میں لے لیں۔ منوجیا بٹالین ہیڈکوارٹرز، غرنالی ہیڈکوارٹرز، درانی کیمپ سمیت متعدد اہم مورچے تباہ کر دیے گئے جبکہ افغان اہلکاروں کی بڑی تعداد نے ہتھیار ڈال دیے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان فورسز کی جانب سے انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال اور بارام چاہ سمیت مختلف سیکٹرز پر اشتعال انگیز فائرنگ کی گئی اور خوارجی دہشت گردوں نے سرحد پار کرنے کی کوشش بھی کی، جسے پاک فوج نے ناکام بنا دیا۔
جوابی کارروائی میں رات بھر پاکستانی فورسز نے اُن چوکیوں کو نشانہ بنایا جہاں سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں زیرِکنٹرول افغان پوسٹوں پر آگ اور تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ متعدد طالبان اہلکار فرار ہوگئے جبکہ کئی نے سرنڈر کیا۔
چمن بارڈر کے قریب کارروائی میں افغان طالبان اور ان کے ساتھ موجود خارجی عناصر بھاگتے ہوئے مارے گئے۔ برابچہ سیکٹر میں اُس بٹالین کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں سے دہشت گردوں کو پاکستان میں داخلے کی سہولت دی جاتی تھی۔ کارروائی کے نتیجے میں ٹینک، ہم وی اور بکتر بند گاڑیاں تباہ ہوئیں۔
ژوب سیکٹر میں اہم پوسٹ پر پاکستانی فورسز نے قبضہ کرتے ہوئے قومی پرچم لہرایا۔ کرم کے سامنے افغان چوٹی پر موجود ٹینک پوزیشن کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ مجموعی طور پر 27 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن پر خارجیوں کو پناہ دینے اور دراندازی کرانے کا الزام تھا۔
درانی کیمپ 2 اور غرنالی ہیڈکوارٹرز مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ درانی کیمپ میں پچاس سے زائد افغان اہلکار اور خارجی ہلاک ہوئے جبکہ غزنالی ہیڈکوارٹر میں بھی درجنوں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
برامچا اور خرلاچی سیکٹر میں افغان پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ کھرچر فورٹ — جو خوارج کا مرکز قرار دیا جاتا تھا — مؤثر فائر سے مکمل طور پر خاکستر کر دیا گیا۔ کارروائی میں فضائی وسائل اور ڈرونز بھی استعمال کیے گئے، افغان پوسٹیں کور فائر دینے میں ناکام رہیں۔
منوجیا بٹالین ہیڈکوارٹرز 1 اور 2 بھی ملیامیٹ کیے گئے، جبکہ میلا، ترکمانزئی اور ٹالی کیمپس کو بھی صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ افغان جنڈوسر اور کنڑ پوسٹ کو بھی ہدف بنایا گیا۔
لیوبند اور قلعہ عبداللہ سیکٹرز میں افغان پوسٹیں تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ چاغی اور چترال کے قریب بھی کارروائی کے دوران افغان دہشت گرد ہلاک ہوئے اور متعدد چیک پوسٹیں اڑا دی گئیں۔ پاکستانی فورسز نے آرٹلری، ٹینک اور دیگر بھاری ہتھیار استعمال کیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان فائرنگ کا مقصد خوارج کو بارڈر پار کرانا تھا، تاہم پاک فوج کی بروقت اور فیصلہ کن کارروائی نے تمام عزائم ناکام بنا دیے۔






