اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مذہب کے نام پر مسلح جتھے بنانا اور عوام کی زندگی مفلوج کرنا توہینِ مذہب کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکیں بند کرکے لوگوں کو یرغمال بنانا دین کی خدمت نہیں بلکہ اس کی توہین ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آج صبح انہیں 12 شہداء کے جنازوں میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وطن کے یہ بیٹے مٹی کی محبت میں جان کا نذرانہ پیش کر گئے اور پوری قوم ان کی احسان مند ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ شہداء وہ قرض ادا کر رہے ہیں جو پوری قوم پر واجب ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ پاکستانی قوم کو اب متحد ہو کر اندرونی و بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جب دو سال تک غزہ میں قتل و غارت جاری رہی تو کسی کو احتجاج یاد نہ آیا، لیکن جیسے ہی وہاں جنگ بندی ہوئی تو یہاں احتجاج شروع کر دیا گیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ معاشرے کو یرغمال بنانے اور مذہب کے نام پر تشدد کا باب اب بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ قرآن و سنت بھائی چارے، محبت اور امن کا درس دیتے ہیں، نفرتیں اور تقسیم ختم کر کے دنیا و آخرت سنواری جا سکتی ہے۔






