کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت (سی اے ایس) نے انڈونیشیا کے فیصلے کو برقرار رکھا جس میں اس نے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے احتجاج میں اپنے ملک میں ہونے والی ورلڈ جمناسٹکس چیمپئن شپ میں اسرائیلی کھلاڑیوں کو شرکت سے روکا تھا۔
انڈونیشیا نے واضح کیا تھا کہ وہ فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی طور بھی اسرائیلی کھلاڑیوں کو خوش آمدید نہیں کہہ سکتا۔ اسرائیل نے کھیلوں کی عالی عدالت سے رجوع کیا اور ویزے جاری کرنے یا ایونٹ کی منتقلی کا مطالبہ کیا، تاہم سی اے ایس نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔
فیصلے میں عدالت نے لکھا کہ بین الاقوامی فیڈریشنز کے پاس کسی خودمختار ملک پر ویزے جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا اختیار نہیں ہے۔
انڈونیشیا میں 19 سے 25 اکتوبر تک ہونے والی جمناسٹکس چیمپئن شپ میں 79 ممالک کے 500 سے زائد کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل کو انڈونیشیا میں کھیلوں میں روکا گیا ہو؛ 2023 میں بھی ANOC بیچ گیمز میں تنازع کی وجہ سے اسرائیلی ٹیم نے شرکت نہیں کی تھی۔





