سکھر کی سیشن عدالت نے اپنے ہی گھر کے 11 افراد کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر باپ وہاب اللہ انڈھڑ اور اس کے بیٹے کلیم اللہ انڈھڑ کو 11،11 مرتبہ عمر قید کی سزا سنادی۔ تین دیگر ملزمان کو جرم ثابت نہ ہونے پر باعزت بری کر دیا گیا۔
یہ واقعہ پانچ سال قبل پنوعاقل میں پیش آیا تھا، جب گھر کے سربراہ نے اپنی بیوی اور بچوں سمیت 11 اہلِ خانہ کو قتل کر دیا تھا۔ مقتولین میں وہاب اللہ کی بیوی رقیہ، بیٹیاں اقراء (18 سال)، اسرا (8 سال)، سریہ (6 سال)، حاجانی (5 سال)، بیٹا اسد (4 سال)، چھوٹا بیٹا احسن (3 سال)، بہو نسیمہ (19 سال)، پوتی نازیہ (3 سال) اور پوتا علی (1 سال) شامل تھے۔
تمام مقتولین کو چھریوں کے وار کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔ پولیس نے واقعے کے بعد وہاب اللہ اور اس کے چار بیٹوں کو گرفتار کیا تھا، جن میں سے تین کو عدالت نے بعد میں رہا کر دیا تھا۔






