اوکاڑہ میں سیلاب متاثرین کیلئے فلڈ کارڈ اور معاوضوں کی تقسیم کے باقاعدہ آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ بدترین سیلاب کا سامنا کیا مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا، عوام کی عزتِ نفس کا تحفظ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب سے گھروں، جانوروں اور فصلوں کو بڑا نقصان ہوا، تین ہفتوں تک صورتحال سنگین رہی مگر حکومت، کابینہ اور انتظامیہ مسلسل میدان میں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب نے اپنے وسائل سے ریسکیو آپریشن کیا اور متاثرہ خاندانوں کو ٹینٹ اور کھانا فراہم کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 70 فیصد سروے مکمل ہو چکا ہے اور 15 اضلاع میں امدادی رقوم کی تقسیم شروع کر دی گئی ہے۔ متاثرین کو چیک، اے ٹی ایم کارڈ اور کیش کی صورت میں ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ ایک دن میں اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے تین لاکھ روپے تک نکلوائے جا سکیں گے۔
مریم نواز نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور کرپشن کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ شکایات کے ازالے کیلئے خصوصی سسٹم بھی بنایا گیا ہے جبکہ 71 ہزار سے زائد بینک اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے کسی بھی شہر میں تفریق نہیں کی جائے گی اور متاثرین کیلئے مفت ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی موجود ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں محسوس بھی نہیں ہوگا کہ یہاں سیلاب آیا تھا۔
تقریب کے دوران مریم نواز نے دیپالپور میں بحالی پروگرام کے تحت چیکس تقسیم کیے، کاؤنٹر بوتھ کا معائنہ کیا اور متاثرین سے مسائل بھی دریافت کیے۔






